http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 13 June, 2007, 21:14 GMT 02:14 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

قاضی: الطاف حسین کے خلاف فریق

جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی جانب سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف دائر کئے جانے والے مقدمے میں فریق بنیں گے اور الطاف حسین کےخلاف تمام شواہد اور معلومات فراہم کی جائیں گے۔

جمعرات کو لاہور پریس کلب میں قاضی حسین احمد نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے لوگوں کو پناہ نہ دیں جو پرتشدد اقدامات کی سرپرستی میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کو پناہ دینے کے حوالے سے جماعت اسلامی برطانوی سفارتخانے کو ایک خط بھی لکھے گی۔

جماعت اسلامی کے سربراہ نے کراچی میں متحدہ طلبہ محاذ کے صدر واصف عزیز کی ہلاکت کی پروز مذمت کی اور الزام لگایا کہ کراچی میں جو بھی واقعات ہورہے ہیں اس کی بنیادی ذمہ داری صدرجنرل پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے منصب پر جنرل پرویز مشرف کا دوبارہ انتخاب نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے کیونکہ ایک ایسی اسمبلی جس کی اپنی معیاد ختم ہورہی ہے اس کو آئندہ پانچ برس کے لیے کسی کو صدر منتخب کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر کے منصب پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی ایک حکمت عملی ہونی چاہئے اور آل پارٹیز کانفرنس میں صدارتی انتخاب ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے اور اس پر متفقہ موقف اختیار کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی حزب اختلاف کی جماعت ہے تو اس کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنی چاہئے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کو قومی دھارے میں آنا چاہئے۔

ایک اور سوال پر قاضی حسین احمد نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ سن دو ہزار سات جنرل مشرف کے زوال کا سال ہے اور عوامی تحریک کے بعد فوج کی سیات میں مداخلت ختم ہوجائے گی۔

انہوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سمیت تمام اپوزیشن کی جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے۔ ان کے بقول حکومت سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے سیاسی آواز کو دبانا چاہتی ہے لیکن یہ حکومت کی خیام خیالی ہے۔