Sunday, 10 June, 2007, 13:54 GMT 18:54 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ایک نیا ریفرنس تیار کر لیا ہے جس کو ضرورت محسوس ہونے پر داخل کر دیا جائے گا۔
اس بات کا اعلان وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق وصی ظفر نے اتوار کو جاری کیئے گئے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چیف جسٹس کی ریلیوں اگر سیاسی جماعتوں کو آنے کی دعوت نہیں دی گئی تو انہیں منع بھی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہائی کورٹ کے ججوں نےہائی کورٹ میں جسٹس افتخار کا استقبال کیا کیونکہ وہ چیف جسٹس تو ہیں۔ وزیر قانون نے کہا پہلے چیف جسٹس بھی بار سے خطاب کرتے رہے ہیں لیکن سیاسی ریلیاں نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنس کی تفصیل دائر ہونے پر سامنے آ جائے گی۔
تاہم ساتھ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ریفرینس پر وکلاء سے مشاورت بھی جاری ہے۔
اس ریفرینس کے دائر کرنے کے وقت کے بارے میں بیان میں بظاہر دانستہ ابہام چھوڑا گیا ہے اور صرف اتنا کہنا گیا ہے کہ نئے ریفرینس کو ضرورت محسوس ہونے پر وقت کا تعین کرتے ہوئے داخل کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون نے چیف جسٹس کے خلاف نو مارچ کو دائر کیئے گئے ریفرینس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو حکومت ایک اہم آئینی فریضے سے کوتاہی کرتی۔ انہوں نے عدلیہ سے بغیر کسی دباؤ کے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ صادر کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ چیف جسٹس کی جانب سے اپنے خلاف ریفرنس کی حیثیت سے متعلق سماعت آخری مراحل میں ہے۔
اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کئی سیاسی جماعتوں اور وکلاء کی جانب سے دباؤ کے باوجود اپنا زیر سماعت ریفرینس واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔