Saturday, 09 June, 2007, 17:50 GMT 22:50 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو ایک سو گیارہ ارب روپے کا ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ ریلیف مختلف شعبوں میں دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے اشیائے خوردونوش کی، جن میں دالیں، چینی اور گھی شامل ہیں قیمتیں کم کی گئی ہیں البتہ یہ رعایت صرف سرکاری یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب ہوگی۔
ملک کے دوردراز علاقوں میں یوٹیلٹی سٹورز کی کمی کے پیش نظر ملک بھر میں پانچ ہزار نئے سٹورز کھولنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ آئندہ چار ماہ میں ہر یونین کونسل میں ایک یوٹیلیٹی سٹور ہوگا۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ اور ملازمین کی اگلے گریڈوں میں ترقیوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں کم تنخواہ والے سرکاری ملازمین کے لیے ڈھائی لاکھ رہائشی اپارٹمنٹس بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
غیر ہنر مند افراد کے لیے معاوضے کی حد کم از کم چار سے ساڑھے ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ کم سے کم پنشن تیرہ سو روپے سے بڑھا کر پندرہ سو روپے کر دی گئی ہے۔ ورکر کی بیوہ کو بھی انہیں مراعات کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔
کمپنی کے منافع میں حصہ دار بنانے کے لیے قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے جس کے بعد کنٹریکٹ ملازمین بھی منافع میں شامل ہوں گے۔
زراعت
![]() | |
| زرعی کھاد پر مزید 70 روپے کی سبسڈی دی گئی ہے |
تعلیم
ملک میں تعلیم کے شعبے میں جی ڈی پی کا چار فیصد بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس رقم کو مزید تعلیمی ادارے کھولنے اور موجودہ تعلیمی سہولتوں میں بہتری لانے پر خرچ کیا جائے گا۔
صحت
![]() | |
| سات شہروں میں آٹھ سو سے زائد میڈیکل کلینکس قائم کیے جائیں گے |
صنعت
مقامی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے صفر فیصد ڈیوٹی کا نظام متعارف کروایا گیا ہے اور صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات پر ڈیوٹی کی شرح میں بعض صورتوں میں کمی کی گئی ہے اور دیگر صورتوں میں اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ مراعات جن مصنوعات کی تیاری پر دی گئی ہیں ان میں سی این جی کمپریسر، بجلی کے میٹر، ٹرانسفارمرز، بلب اور ٹیوب لائٹس شامل ہیں۔
غیر روایتی صنعت
![]() | |
| قیمتی پتھروں کی تیاری کے حوالے سے ڈیوٹی میں کمی کی جائے گی |
میگا پراجیکٹس
حکومت نے صرف ایک نئے بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے جو عرصے سے زیرِالتواء نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہے جس کی تعمیر پر چوراسی ارب روپے لاگت آئے گی۔ اس کے علاوہ پہلے سے جاری کئی منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ٹیکسیشن
اس بجٹ میں آمدن پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ بجٹ میں پرائیویٹ ایکویٹی فنڈز کو سال دو ہزار چودہ تک ٹیکس سے مستثٰنی قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔حکومت کے اعدوشمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں چھ ارب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ہے۔