http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 06 June, 2007, 12:45 GMT 17:45 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

سندھ پولیس کے سابق سربراہ لاپتہ

صوبہ سرحد کے ضلع لکی مروت میں اطلاعات کے مطابق بعض نامعلوم افراد نے صوبہ سندھ میں سی آئی اے پولیس کے سابق سربراہ سمیع اللہ مروت کو اغواء کر لیا ہے۔

لکی مروت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انہیں منگل کی رات گیارہ بجے سرائے نورنگ میں بعض نامعلوم مسلح نقاب پوش افراد نے اس وقت اغواء کرلیا جب وہ اپنی گاڑی میں گھر جارہے تھے۔
ان کو اغواء کرنے والوں کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات
لکی مروت پولیس کے سربراہ عبدالرشید نے بی بی سی کوبتایا کہ سمیع اللہ کے اغواء کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم ان کے اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی ہے کہ وہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے لاپتہ ہیں۔ان کے مطابق پولیس نے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔

سمیع اللہ مروت صوبہ سندھ میں سی آئی اے پولیس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں اور ان کے دور میں سی آئی اے پولیس پر ریپ، ٹارچر اور دیگر جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ ان میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی وینا حیات کا مشہور کیس بھی شامل ہے۔ انہیں بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔

صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع بالخصوص سرائے نورنگ میں حالیہ دنوں کے دوران اغواء کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس علاقے میں سرگرم مقامی طالبان پر اغواء میں ملوث ہونے کا الزام لگاتی رہی ہے لیکن یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ بعض وارداتوں میں جرائم پیشہ افراد طالبان کے بھیس میں لوگوں کو اغواء کرتے ہیں۔