Tuesday, 05 June, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سندھ ہائی کورٹ میں منگل کو دو لاپتہ افراد کو پیش کیا گیا، ڈاکٹر علی رضا اور انجنیئر ممتاز حسین کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
انجنیئر ممتاز حسین کو تین جولائی 2006 کو کراچی ائرپورٹ سےگرفتار کیا گیا تھا اور ان پر فرقہ واریت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جب کہ ڈاکٹر علی رضا انیس جولائی 2006 کو کراچی ائرپورٹ سے اس وقت لاپتہ ہوئے تھے جب وہ دبئی سے ڈی پورٹ ہوکر واپس پہنچے تھے ان پر بھی فرقہ واریت میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
دونوں کے رشتہ داروں نے گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے انیس مئی کو حکم جاری کیا تھا کہ دونوں کو یکم جون کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ دونوں کو سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے اور ممتاز حسین کو اسلام آباد میں بورڈ کے سامنے بھی پیش کیا جا چکا ہے۔
عدالت نے دونوں کو یکم جون کو پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا مگر انہیں پیش نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے دوبارہ حکم جاری کیا کہ دونوں کو پانچ جون کو اس مواد کے ساتھ پیش کیا جائے جو ان سے برآمد ہوا ہے۔
وفاقی سکریٹری داخلہ کو نوٹس |
جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس منیب الرحمان پر مشتمل عدالت نے وفاقی سکریٹری داخلہ کو مواد پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے ہیں اور بیس جون کو عدالت میں حاضر ہونے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ رجسٹرار کے دفتر میں ملزمان کی رشتہ داروں سے ملاقات کروائی جائے اور وکیل کو پابند کیا کہ وہ ملزمان کو میڈیا سے دور رکھیں گے۔