Monday, 04 June, 2007, 14:18 GMT 19:18 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں قبائلی لشکر نے ناجائز جنسی تعلق کے الزام میں ایک خاتون سمیت چار افراد کو سزا دیتے ہوئے سرِ عام گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ پیر کی صبح تحصیل باڑہ کے علاقے سپاہ میں سپرے ڈیم کے مقام پر قوم سپاہ کے ایک قبائلی لشکرنے مردان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اور تین مردوں کوناجائز جنسی تعلقات کے الزام میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
قوم سپاہ کے قبائلی لشکر کے سربراہ حاجی جان گل نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی کمیٹی کے اراکین نےگزشتہ رات ایک گھر پر چھاپہ مارا اور مردان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو ایک غیر مقامی خاتون سے مبینہ طور پر جنسی عمل میں مشغول رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔
لشکر کے سربراہ نے بتایاکہ علاقے کی روایات کے تحت چاروں افراد کو پیر کی صبح سپاہ قوم کے قبائلی جرگے کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ان کے مطابق گرفتار افراد نے خود قبائلی مشران کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد جرگہ کے فیصلے کی روشنی میں لشکر نے کارروائی کی اور چاروں افراد گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر ڈالا۔
حاجی جان گل کے مطابق اس کارروائی میں چھ سو کے قریب مسلح قبائیلوں نے حصہ لیا۔ ہلاک شدگان کی لاشیں ان کی لواحقین کے حوالے کردی گئیں ہیں۔
لشکر کے سربراہ سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے کس قانون کے تحت یہ کارروائی کی تو ان کا کہنا تھا کہ گرفتارشدگان نے جرگہ کے سامنے خود اعتراف جرم کیا تھا لہذا مقامی روایات کے تحت ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
واضح رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بھی سپاہ کے علاقے میں ہی ایک غیر مقامی خاتون کو جنسی فعل کے الزامات کے تحت چندافراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جنھیں بعد میں جرگہ کے حکم پر ہلاک کر دیا گیا۔