Sunday, 03 June, 2007, 18:39 GMT 23:39 PST
عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس الطاف حسین کے بارے میں ایسے شواہد ہے جن کی بنا پر مقدمہ شروع ہو سکتا ہے۔
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پاکستانی سیاستدان الطاف حسین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کےلیے لندن پہنچ چکے ہیں۔ اتوار کو برطانوی وزیر اعظم کے لیے لندن میں ان کے رہائشگاہ ٹین ڈاوننگ سٹریٹ جا کر ایک یاداشت جمع کرائی گئی۔ اس مقصد کے لیے وہاں جمع ہونے والوں لوگوں نے مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین کو توقع تھی کہ اس موقع پر عمران خان بھی موجود ہوں گے لیکن عمران خان وہاں نہیں پہنچے۔
اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی سمیرا اسلم نے عمران خان سے سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ:
’اصل میں تو یہ پہلے سے پلان تھا۔ کیونکہ میں برٹش سیٹیزن تو ہوں نہیں، اور یہ پٹیشن 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کو برٹش سیٹیزنز کی طرف سے کی گئی ہے کہ ایک ایسا برٹش سیٹیزن یہاں ہے جو بیسیکلی (بنیادی طور پر) اس برٹش قانون کو وائلیٹ (توڑ رہا ہے) کر رہا ہے جو 2002 اور 2006 کے بعد آیا تھا کہ آپ برطانیہ میں بیٹھ کر کسی دوسرے ملک میں کوئی کریمنل سرگرمی نہیں کر سکتے‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ آپ تو یہ کہہ کر آئے تھے کہ آپ وہاں موجود ہوں گے اور ایک سیاسی پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے کیا آپ کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی؟ عمران خان نے کہا کہ:
’نہیں جی، یہ کبھی پلان نہیں تھا میرا۔ بلکہ یہ تو میرے شیڈول میں ہی نہیں تھا۔ میں شام کو الفرڈ میں ہونے والے جلسے میں موجود ہوں گا، میں برٹش ہاؤس آف کامن اور ہاؤس آف لارڈز میں جو میری اپوائنٹمٹنٹس ہیں، کل میں وہاں موجود ہوں گا اور جب ہم اپنی لیگل ٹیم سے مل کر کیس دائر کریں گے تو اس میں اپنی پوری شرکت کروں گا۔
![]() | |
| عمران خان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کے سوا کسی کی نہیں چلتی |
’میں کہہ نہیں سکتا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہر پاکستانی کی ڈیوٹی ہے کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے جو دہشت گردی کی ہے، ایم کیو ایم کے میلیٹنٹ ونگ نے، میں ساری ایم کیو ایم کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا، لیکن میں الطاف حسین کو یقیناً ذمہ دار ٹھہراتا ہوں کیونکہ وہ سول (مکمل) انچارج ہیں، پارٹی میں کسی کی say نہیں ہے ( کسی کی بات نہیں چلتی) سوائے الطاف حسین کے، تو جو بھی ذمہ داری ہے، اور انشاء اللہ ہم یہ ثابت کریں گے کہ بارہ مئی کے ایونٹس (واقعات) ہوئے کراچی میں، جہاں اڑتالیس لوگ مارے گئے ہیں اور کم از کم دو سو لوگوں کو گولیاں لگی ہیں ہم یہ ثابت کریں گے کہ الطاف حسین اس میں پورے شریک تھے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے اتنے شواہد اور ثبوت موجود ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ:
’انشااللہ ہم پوری سرکمسٹانشل ایویڈنس (واقعاتی شہادت) دیں گے اور ایک دو ایسی ایویڈنس دیں گے جن کے بارے میں ابھی میں آپ سے بات نہیں کر سکتا۔ لیکن جب ہم وہ دیں گے تو ہمارا خیال ہے کہ ان کے نتیجے میں یہاں برطانیہ میں پروسیڈنگ (مقدمے کی کارروائی) شروع ہو سکے گی۔
عمران خان سے پوچھا گیا کہ اگر اس کے نتیجے مقدمہ شروع نہ ہو سکا تو کیا ایسا نہیں لگے گا کہ آپ یہ سارے اقدام اپنی سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے اٹھا رہے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ:
سب کو پتہ ہے، کوئی بات نہیں کرتا |