Friday, 01 June, 2007, 12:09 GMT 17:09 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں جمعہ کو دو نجی ٹی وی چینلز ’اے آر وائی ون ورلڈ‘ اور ’آج‘ ٹی وی کی نشریات کئی گھنٹوں جزوی طور پر معطل رہیں۔ بعض کیبل آپریٹرز اسکا ذمہ دار پیمرا کو قرار دے رہے ہیں جبکہ پیمرا اس طرح کے کسی بھی اقدام سے لاتعلقی ظاہر کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت اور اخبارات کے مابین لفظی جنگ میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ متعدد اخبارات نے ذرائع ابلاغ کے بارے میں صدر مشرف کے سخت لہجے پر تنقید کی ہے جبکہ حکومت نے میڈیا سے متعلق قوانین کے سختی سے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس واقعہ کے دو روز بعد یعنی پچھلے بدھ کو صدر مشرف نے جہلم میں فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے بارے میں نسبتاً سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز حکومت مخالف اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔اور حکومتی کامیابیاں بھی منفی پروپیگنڈے کی زد میں آ رہی ہیں۔صدر نے موجودہ حالات کے تناظر میں ذرائع ابلاغ بالخصوص الیکٹرونک میڈیا کے رویے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
صدر کی تقریر کے دوسرے روز یعنی جمعرات کو وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے کھل کر واضح کردیا کہ حکومت فوج اور عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی تنقید برداشت نہیں کرے گی۔ حکمراں مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اس دوران دوبارہ اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ فوج کے خلاف بولنے والوں کو گولی مار دینی چاہئیے۔
ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان بھی ہوا کہ لائیو براڈ کاسٹنگ کے تعلق سے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کے قوانین کو سختی سے لاگو کیا جائے گا۔ ان قوانین کی پہلی آزمائش دو جون کو ہوگی جب نجی ٹی وی چینل معطل چیف جسٹس کی ایبٹ آباد آمد کو براہ راست ٹیلی کاسٹ نہیں کر سکیں گے۔اور آج کے بعد ہر چینل کو کسی بھی طرح کی براہ راست کوریج کی پیشگی سرکاری اجازت لینا ہوگی۔
![]() | |
| ’آج‘ ٹی وی پر فائرنگ اور ’جیو‘ پر حملے کے ذمہ دار ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے ہیں |
سولہ مارچ کو ’جیو‘ اسلام آباد کے دفاتر پر حملے کے ذمہ دار ہنوز گرفتار نہیں ہوسکے۔ کراچی میں بارہ مئی کو ’آج‘ ٹی وی کے دفاتر پر پانچ گھنٹے تک کس نے فائرنگ کی۔اب تک کوئی واضح نشاندہی نہیں کی جاسکی۔ٹی وی چینلز کی نشریات اچانک کون روک دیتا ہے اور کیسے بحال کردیتا ہے۔اس بارے میں آج تک نہ تو پیمرا کی جانب سے کوئی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی کیبل آپریٹر پیمرا یا کسی سیاسی گروہ کا نام زبان پر لانے کی جرات کرتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ صدرِ مملکت جو کچھ عرصے پہلے تک ذرائع ابلاغ کی آزادی کا کریڈٹ لینے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اب اسی آزادی کے استعمال پر انکا لہجہ روزبروز سخت ہوتا جا رہا ہے ۔اور صدرِ مملکت کے لہجے کی روشنی میں حکومت تیزی سے صحافتی آزادی کی بساط لپیٹنےکے لیے کمر بستہ نظر آتی ہے۔
صحافتی حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں میڈیا پر ایک بھرپور کریک ڈاؤن کرنے کا ماحول بنتا نظر آ رہا ہے۔اور یہ بات ہرگز تعجب خیز نہ ہوگی اگر کچھ ٹی وی چینلز کی نشریات باقاعدہ معطل کردی جائیں۔ایف ایم ریڈیو نشریات کے گرد شکنجہ مزید سخت ہوجائے۔صحافیوں پر بلاواسطہ دباؤ براہ راست دباؤ کی شکل اختیار کر جائے اور اشتہاری کوٹے کے روائیتی دباؤ کا دائرہ وسیع ہوجائے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت عدالتی بحران، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سپریم کورٹ بلڈنگ میں ہونے والے حالیہ سیمینار میں فوج پر تنقید اور عام انتخابات کی تاریخ کی قربت سے پیدا ہونے والے بے پناہ دباؤ کی تاب نہیں لا پا رہی ہے۔