http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 01 June, 2007, 18:38 GMT 23:38 PST

عبادالحق
بی بی سی اردوڈاٹ کام ،اسلام آباد

پاک افغان جرگہ کمیشن کا اجلاس

پاکستان اور افعانستان کے درمیان اگست کے پہلے ہفتے میں متوقع گرینڈ امن جرگے کے قواعد و ضوابط اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

پاک افغان جرگہ کمیشن کا اجلاس نتھیا گلی، ایبٹ آباد میں واقع گورنر ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جبکہ افغانستان کی نمائندگی پیر سید احمد گیلانی نے کی۔

توقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگست کے پہلے ہفتے میں منعقد کیے جانے والے گرینڈ جرگہ میں دونوں جانب سے مجموعی طور پر سات سو نمائندے شریک ہوں گے۔

اجلاس کے پہلے حصہ کے اختتام پر آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور پیر سید احمد گیلانی نے مشترکہ بریفنگ میں بتایا کہ اگست میں ہونے والے جرگے میں طالبان کے حامیوں کو مدعو نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
امن مذاکرات
’طالبان کے حامیوں کو مدعو نہیں کیا جائے گا‘

انہوں نے بتایا کہ گرینڈ جرگہ کے انعقاد کے موقع پر سیکیورٹی کی ذمہ داری میزبان ملک پر ہوگی۔

آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے صدور اگست میں ہونے والے جرگہ سے خطاب کریں گے۔ اس گرینڈ جرگہ سے دہشت گردی کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔

ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ الزام تراشی کرنے کے بجائے اختلافات کو فورمز پر زیر بحث لایا جائے۔ ان کے بقول افغانی جرگہ کمیشن کا وفد سنیچر کو صدر جنرل پرویز سے ملاقات کرے گا او ر پاک افغان جرگہ کمیشنز کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں صدر پاکستان کو آگاہ کیا جائے گا۔
امن مذاکرات
سیکیورٹی کی ذمہ داری میزبان ملک پر ہوگی

انہوں نے کہا کہ اس سال اگست کے پہلے ہفتہ میں ہونے والے گرینڈ جرگہ کے انعقاد کے بعد دوسرا جرگہ پاکستان میں ہوگا۔

آفتاب شیرپاؤ اور پیر سید احمد گیلانی نے کہا کہ دونوں کے ملکوں کے کمیشنز کے اجلاس میں بات چیت انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن میں صدر بش کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں ہونے والی بات چیت میں سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے اور قیام امن کے لیے ایک جرگہ طلب کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔