اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افواج پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے بارے میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کی رونمائی کی تقریب مبینہ طور پر حکومتی مداخلت کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔
کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تقریب کو تعطل کا شکار کرنے کا الزام حکومت پر لگایا اور کہا کہ وزارت داخلہ میں قائم ’کرائیسس مینجمینٹ سیل‘ نے اسلام آباد کلب سمیت شہر کے تمام ہوٹلوں کی انتظامیہ کو تقریب کے لیے جگہ نہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مصنفہ نے کہا کہ ان کی کتاب ایک تحقیقاتی کام پر مبنی ہے جو فوج یا کسی فرد کے خلاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق تقریبِ رونمائی میں روڑے اٹکانا اظہار رائے کی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ متبادل جگہ کی تلاش میں ہیں اور ہر حال میں آج ہی اپنی کتاب کی تقریب منعقد کریں گی۔
ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ چاہے انہیں سڑک پر تقریب رونمائی کرنا پڑی تو بھی وہ کریں گی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے ذریعے ایک گمنام تجزیہ کار کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں کتاب کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا گیا ہے۔
اس بارے میں وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات سمیت حکومت کے کئی ذمہ داران سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔