Tuesday, 29 May, 2007, 14:11 GMT 19:11 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے شمالی اضلاع چترال اور دیر کے عوام نے حکومت پاکستان کی جانب سے پشاور میں مقیم افغان مہاجرین کو ان کے علاقوں میں منتقل کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری طرف مہاجرین نے بھی ضروری سہولیات کی عدم فراہمی کی صورت میں متبادل کیمپوں میں جانے سے انکار کیا ہے۔
چترال سے منتخب رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت چترال کی پرامن فضا کو مہاجرین کے ذریعے خراب کرنا چاہتی ہے لیکن وہ اس فیصلے کی بھرپور مزاحمت کرینگے اور اگر ضرورت پڑی تو اس کے خلاف تحریک بھی چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چترال کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور حکومت مہاجرین کو پاک افغان سرحد پر آنے جانے کی آزادانہ اجازت دے کر ان کی سرزمین کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چترال کے تمام عوام اور منتخب نمائندے اس بات پر متفق ہیں کہ افغان مہاجرین کو کسی بھی صورت میں ان کے علاقےمیں آنے نہیں دیا جائے گا۔
ادھر ضلع دیرمیں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے اورحکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر مہاجرین کو ان کے علاقے میں منتقل کیا گیا تو اس کے خلاف جلسے، جلوس اور مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔
دیر کے ایک صحافی حلیم اسد نے بتایا کہ مقامی لوگ کے تحفظات ہیں کہ مہاجرین کے آنے سے ان کے علاقوں میں امن وامان کے مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل دیر میں ایک عوامی اجتماع بھی منعقد ہوا تھا جس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں نے اس حکومتی فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی۔
دوسری طرف پشاور میں مقیم افغان مہاجرین نے چترال اور دیر میں منتقل ہونے کو ضروری سہولیات کی فراہمی سے مشروط کر دیا ہے۔
کچہ گھڑی کیمپ میں مہاجرین کے رہنما حاجی دوست محمد نے بتایا کہ اگر حکومت پاکستان اور مہاجرین کےلیے اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت عامہ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرسکتا ہے تو وہ دوسرے کیمپوں میں منتقل ہونے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ یو این ایچ سی آر کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت صوبہ سرحد میں تیرہ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مختلف کیپموں اور دیگر علاقوں میں رہ رہے ہیں جن میں پانچ لاکھ تراسی ہزار ضلع پشاور میں مقیم ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دو لاکھ سے زائد مہاجرین رضاکارانہ طور پر افغانستان جا چکے ہیں۔