Tuesday, 29 May, 2007, 08:43 GMT 13:43 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پشاور میں ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے ایک بم دھماکے میں نو افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ دھماکہ وکلاء کی تحریک کو دبانے کی ایک حکومتی سازش ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ منگل کی صبح دس بجکر چالیس منٹ پر ہائی کورٹ کی عمارت کے داخلی گیٹ سے تقریباً چند سو قدم دور کھڑی ایک آلٹو کار میں پیش آیا جس سے نو افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکے میں ضلعی ناظم غلام علی کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔
واقعہ کے بعد وکلاء سمیت سینکڑوں افراد ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے جمع ہوگئے اور پولیس کی بھی بھاری تعداد موقع پھر پہنچ گئی۔ جس کار میں بم دھماکہ ہواتھا اس کے ٹکڑے سڑک پر بکھرے پڑے تھے۔
صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داودزئی نے جائے وقوعہ پر بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ کار میں رکھے گئے آتش گیر مادے کےنتیجے میں پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر متحدہ مجلس عمل کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالطیف آفریدی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دھماکے کی ذمہ داری خفیہ ایجنسیوں پر عائد کردی اور الزام لگایا کہ دھماکہ وکلاء کی تحریک کو دبانے کے لیے کیا گیا ہے۔
لطیف آفریدی نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل ایک نامعلوم شخص نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو فون کرکے بتایا کہ دو خودکش بمبار عدالت کی عمارت میں داخل ہوچکے ہیں جس کے بعد سکیورٹی بڑھادی گئی اور پوری عمارت کو خالی کرکے تلاشی لی گئی۔
واضح رہے صوبہ سرحد میں گزشتہ کچھ عرصے سے بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور دو ہفتے قبل بھی پشاور میں ایک افغان ہوٹل کو خودکش بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تقریباً پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔