Tuesday, 29 May, 2007, 03:41 GMT 08:41 PST
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تصادم کی کیفیت کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان کی بطور اتحادی ضرورت رہے گی، قطع نظر اس کے کہ اگلے سال امریکہ میں صدارتی انتخاب کون جیتتا ہے۔
جرمنی میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے خورشید قصوری کا کہنا تھا ’عراق کے حوالے سے اگر پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی بھی ہے تو میرا اپنا اندازہ ہے کہ افغانستان پھر بھی اگلی (امریکی) انتظامیہ کے لیے اہمیت کا حامل رہے گا‘۔
خورشید قصوری یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جرمنی کے شہر ہمبرگ پہنچے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’پاکستان کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے‘۔
لیکن امریکی ذرائع ابلاغ اور دانشوروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو جنرل مشرف کی حمایت کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہیے، کیونکہ وہ پاکستان سے کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔
لیکن خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ ان کا تجزیہ یہ نہیں ہے۔ ’ ہمیں امریکی انتظامیہ یا قابل ذکر سینیٹرز اور اراکین کانگریس سے کبھی ایسی بات نہیں سننی پڑی۔ دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی خاطر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اور یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی‘۔
طالبان کے دوبارہ منظم ہونے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں حالات کشیدہ ہوئے ہیں اور دونوں ممالک طالبان کے ایک بار پھر متحرک ہونے کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔
اس صورتحال پر پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ’دونوں ممالک اور باقی دنیا درپیش مشکلات کو سمجھتے ہیں اور اسی بناء پر میں نے کانفرنس کے درمیان اپنے افغان ہم منصب سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو ہر حال میں اپنے وطن واپس جانا ہوگا۔ ’سرحدی علاقوں کے ساتھ واقع پناہ گزینوں کے کیمپ ناپسندیدہ عناصر کے لیے جنت بنے ہوئے ہیں‘۔