Monday, 28 May, 2007, 16:40 GMT 21:40 PST
فوجی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی نئی کتاب ’ملٹری انکارپوریٹڈ: انسائیڈ پاکستانز ملٹری اکانومی‘ ملکی فوج کے کاروباری مفادات پر ایک وسیع اور گہری نظر ہے۔ اس کتاب میں وہ کئی پس پردہ حقائق کا ایک اچھوتا رخ پیش کرتی ہیں۔ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام چھپنے والی اس کتاب کی تقریب رونمائی جمعرات اکتیس مئی کو اسلام آباد میں ہو رہی ہے۔ ذیل میں اس کتاب سے کچھ اقتباسات کی دوسری اور آخری قسط پیش کر جا رہی ہے۔
اس باب میں یہ دلائل بھی دیے گئے ہیں کہ مسلح افواج میں حکمران فوج کا کردار لازماً موجود تھا۔ فوج کا سیاست سے کنارہ کش ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، ایوب خان سے یحیٰی خان کا اقتدار لے لینا دوسری مرتبہ فوج کا اقتدار پر قبضہ نہیں تھا بلکہ ایک جوابی فوجی انقلاب تھا جو فوج اور اعلٰی ترین ریاستی کمان میں ایک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ فوج سیاست میں 1971 سے 1972 تک شریک رہی جب اسے ہندوستان کے ساتھ جنگ میں ناکامی کی وجہ سے واپس بھیج دیا گیا۔
![]() | |
| بھٹو جس طبقے کی نمائندگی کرتے تھے اور خود ان کے جو سیاسی عزائم تھے ان کی وجہ سے وہ عوامی طاقت کو منظم شکل دینے یا جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے میں ناکام رہے |
انیس سو نوے کی دہائی میں یہ شق سیاسی حکومتوں کو برطرف کرنے کے لیے کئی مرتبہ استعمال کی گئی۔ قومی سلامتی کونسل کے قیام کا منصوبہ بالآخر دو ہزار چار میں چوتھے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں کامیاب ہوا۔ اگرچہ ضیاء کے دور میں قومی سلامتی کونسل قائم نہ ہو سکی مگر فوج کو نمایاں حیثیت ملی اور 1988 میں ایک پراسرار فضائی حادثے میں فوجی آمر کی موت کے بعد بھی اسے واپس نہیں دھکیلا جا سکا۔ دراصل سیاستدانوں نے بھی فوج کے معاشی مفادات کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ مسلح افواج کو معاشی فائدے اٹھانے کے زیادہ مواقع فراہم کیے گئے۔ ادارے کے معاشی مفادات نے اس کے سیاسی عزائم کے ساتھ مل کر اسے اپنی طاقت کو باقاعدہ منظم شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
چوتھے باب میں جس کا عنوان ہے: ’مل بس کا تنظیمی ڈھانچہ‘ پاکستانی فوج کی معاشی سلطنت کی تنظیمی ہیئت کے خدوخال بتائے گئے ہیں۔ اس میں کمان اور کنٹرول کے نظام اور معاشی وسائل کے حصول کے مختلف طریقوں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ فوجی کی سلطنت تین مختلف سطحوں پر کام کرتی ہے: (الف) ادارے کی براہِ راست شمولیت سے؛ (ب) کسی ذیلی کمپنی کے ذریعے معاشی فائدے حاصل کرکے اور (ج) فوجی برادری کے ارکان کو بحیثیت افراد فائدے پہنچا کر۔ یہ طرزعمل انڈونیشیا سے ملتا جلتا ہے جہاں اعلٰی ترین سیاسی قیادت فوج کے ساتھ ساتھ معاشی غارتگری میں شریک ہے۔
![]() | |
| قومی سلامتی کونسل کے قیام کا منصوبہ بالآخر دو ہزار چار میں چوتھے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں کامیاب ہوا |
چھٹا باب ’مل بس کی توسیع، 1977 تا 2005‘ مذکورہ برسوں کے دوران مل بس کے پھیلاؤ کے بارے میں ہے۔ یہ وہ عرصہ ہے جب فوج کی داخلی معیشت کئی گنا بڑھی۔ 1977 میں تیسرے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد فوج نے اپنے معاشی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف پراجیکٹ شروع کیے جن میں فوج کے معاشی مفادات کو مزید باضابطہ شکل دینے کے لیے نئے اداروں مثلاً شاہین اور بحریہ فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا۔ غیرمستحکم جمہوریت کے دس برسوں کے دوران فوج کے معاشی کردار کو مزید تقویت ملی۔ 1988 سے 1999 کے دوران سیاسی حکومتوں نے مسلح افواج کو ان کی حمایت کے بدلے میں اضافی معاشی فائدے فراہم کیے۔ اس دور میں فوج فنانس اور بینکنگ جیسے نئے شعبوں میں داخل ہوئی۔ آخری دور فوج کے معاشی مفادات کی توسیع اور استحکام کا دور تھا۔ انیس سو ننانوے میں چوتھی مرتبہ فوج کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ دفاعی اسٹیبلشمنٹ کی معاشرے میں فوج کی مداخلت بہت بڑھ گئی۔
ساتواں باب، ’نئے جاگیردار‘ مسلح افواج کے شہری اور دیہی زمینوں پر قبضے کے بارے میں ہے۔ پاکستان کا مسئلہ، وسائل خصوصاً زمینوں کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ چند لوگ بڑے قطعاتِ اراضی کے مالک ہیں جبکہ دوسری طرف تیس ملین بے زمین کاشتکار اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور زمین کی تلاش میں رہتے ہیں۔ تاہم، بالادست طبقات، جن میں فوج بھی شامل ہے، خود اپنے لیے زمینوں کے حصول میں مصروف رہے ہیں۔ بعض مقاصد کے لیے فوج کو زمینیں دینے کی برطانوی روایت کو افسران کے سینئر درجوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ریاست اور اس کی فوج کا جاگیردارانہ رویہ زمینوں کی تقسیم اور اہم وسائل مثلاً پانی پر اجارہ داری سے ظاہر ہوتا ہے۔
فوج بھی زمینوں کے حصول میں شامل |
آٹھویں باب کا عنوان ہے، ’ملازمین کے لیے سہولیات کی فراہمی: فوج کی فلاح و بہبود‘۔ اس باب میں فوج کی اس دلیل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجیوں کے لیے بہبود کے پروگرام بنیادی طور پر فوج کی ملازمت کو ملک کے جسمانی طور پر اہل شہریوں کے لیے پُرکشش بنانے کے لیے چلائے جاتے ہیں۔ یہ فلاح و بہبود اس کی اپنی سیاست اور جہتوں کے مطابق چل رہی ہے۔ ایک سطح پر بہبود کے فنڈز کی تقسیم کا انحصار ممکنہ فائدہ حاصل کرنے والے کے اثر و رسوخ پر ہوتا ہے۔ سینئر افسروں کو چھوٹے ملازمین کے مقابلے میں فائدوں میں حصہ نسبتاً زیادہ ملتا ہے۔ ایک اور سطح پر، بھرتی کی غلط پالیسی کی وجہ سے جو چھوٹے صوبوں اور بعض نسلی اقلیتوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہے، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ ملک میں موجودہ نسلی تناؤ اس غیرمتوازن تقسیم کی وجہ سے پایا جاتا ہے۔
نویں باب کا عنوان ’مل بس کی قیمت‘ ہے۔ اس باب میں فوج کی داخلی معیشت کی مالی قیمت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس باب میں پیش کیے گئے اعدادوشمار فوج کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں کہ اس کے تجارتی منصوبے اچھی کارکردگی کے حامل ہیں۔ فوج کے بعض بڑے کاروباری اداروں یا ذیلی اداروں نے مالیاتی امداد حاصل کرکے حکومت کو زیرِبار کیا ہے۔ حکومت کے اس دعوے کے باوجود کہ یہ کاروبار نجی شعبے کا حصہ ہیں، مختلف کمپنیاں سرکاری وسائل استعمال کرتی ہیں۔ اس طرزعمل سے مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے مل بس کے مالیاتی اور مواقع کے لحاظ سے نقصانات بڑھ جاتے ہیں۔ فوج کی داخلی معیشت مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
’مل بس اور پاکستان کا مستقبل‘ کے عنوان سے تحریر کیے جانے والے دسویں باب میں، فوجی معیشت کے فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ملک کی سیاست پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مذہبی قدامت پسندی: اتفاق یا نتیجہ |
سماجی طور پر مل بس معاشرے میں منصف قوت کے طور پر فوج کی قبولیت کو کم کر دیتا ہے اور محروم طبقات کی محرومی کو بڑھا دیتا ہے۔ مل بس معاشی استحصال کو باضابطہ شکل دینے کا نام ہے جس کا اثر فوج کے کردار پر بھی پڑتا ہے، اس قسم کی معیشت فوج کو ایک غارتگر ادارے میں تبدیل کر دیتی ہے جو طاقت کو فوج کے، خصوصاً فوجی اشرافیہ کے معاشی فوائد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عام آدمی جو پہلے ہی بالادست طبقات کے لالچ سے دلبرداشتہ ہے فوج سے بھی انصاف کی امید کھو دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تنہائی معاشرے کو دوسرے، عموماً انتہا پسندانہ نظریات کی جانب دھکیل سکتی ہے۔
یہ معلوم کرنا اہم ہوگا کہ کیا پاکستان، ترکی اور انڈونیشیا میں جہاں سول ملٹری تعلقات سرپرستانہ اور محافظانہ نوعیت کے ہیں، مذہبی قدامت پسندی میں اضافہ محض اتفاق ہے یا مسلح افواج کے کردار میں تبدیلیوں کا نتیجہ۔