Sunday, 27 May, 2007, 13:22 GMT 18:22 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
پاک ایران سرحد پر دیوار کی تعمیر سے بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’اس دیوار سے دونوں جانب آباد بلوچوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے‘۔
تفتان کے لوگوں نے بتایا ہے کہ پاک ایران سرحد پر دیوار کی طوالت بڑھائی جا رہی ہے۔
سرحدی علاقے تفتان تحصیل کے نائب ناظم جلیل محمدانی نے بتایا ہے کہ ایران کی حکومت نے پہلے ایک کلومیٹر طویل دیوار کی تعمیر شروع کی تھی لیکن اب اسے مذید طویل کیا جا رہا ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ یہ دیوار خاران اور پھر مکران ڈویژن تک تعمیر کی جائے گی۔
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر دیوار کی تعمیر سے دونوں جانب آباد بلوچوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جب منتخب نمائندے اس موضوع پر اسمبلی میں بحث کرنا چاہتے ہیں تو کورم توڑ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے سرحدی علاقے میں بڑی تعداد میں بلوچ آباد ہیں لیکن دونوں جانب کے سرحدی صوبوں میں گورنر باہر سے لا کر تعینات کیا گیا ہے جنہیں مقامی لوگوں اور خصوصاً بلوچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی بلوچستان کے گورنر نے تو یہاں بلوچوں پر بمباری کرادی ہے اور اس پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
یاد رہے وفاقی اور صوبائی حکومت نے بلوچستان اسمبلی میں مجوزہ سونمیانی بندرگاہ کے خلاف قرار داد کی منظوری پر غصے کا اظہار کیا ہے۔
’دونوں طرف شدید مشکلات ہیں‘ |
بلوچستان کے سرحدی علاقے کوئٹہ سے کوئی سات سو کلو میٹر دور ہیں جہاں روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل پاکستانی علاقوں سے دشوار ہوتی ہے جس بنا پر ایرانی اشیاء پر انحصار زیادہ کیا جاتا ہے اسی طرح ایران کے سرحدی علاقوں کے لوگ بھی کئی اشیاء کے لیے پاکستانی اشیاء پر انحصار کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں بلوچستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی صوبہ سیستان کے گورنر حبیب اللہ نے کہا تھا کہ دیوار کی تعمیر سے تجارت متاثر نہیں ہوگی کیونکہ تمام داخلی اور خارجی مقامات کھلے رہیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کی حجم کافی بڑھ گیا ہے۔
سرحد پر دیوار کی تعمیر کا کام اس سال مارچ میں اس وقت شروع کیا گیا جب فروری میں ایرانی سرحدی علاقے زاہدان میں نا معلوم افراد نے ایک بس پر حملہ کیا تھا جس میں ایک درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوگئے تھے۔