http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 27 May, 2007, 02:42 GMT 07:42 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ

پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام کے تحت صدارتی ریفرنس سے پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت کے بادلوں سے ملکی سیاست پر چھا جانے والی دھند تاحال ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتی۔

چند روز کی بظاہر خاموشی کے بعد سنیچر کو سپریم کورٹ کے سامنے وہی جلوس اور ہلہ گلہ نظر آیا جو سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے وقت دیکھنے کو ملتا رہا۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے سمینار میں ’اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے موضوع پر تقریر کی اور صدر جنرل مشرف کا نام لیے بغیر مبصرین کے مطابق ان کے طرز حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہوئے اڑھائی ماہ ہونے کو ہیں لیکن وکلاء اور سیاسی کارکنوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر لگتا ہے کہ عدالتی بحران کا یہ کمبل آسانی سے حکومت کی جان چھوڑنے والا نہیں ہے۔

اس بارے میں تو اب بعض وفاقی وزیر بھی اس بات کا اپنی ’آف دی ریکارڈ‘ بات چیت میں برملا اظہار کرتے ہیں کہ حکومتی ’تھنک ٹینک‘ کے عدالتی گرداب سے جلد نکلنے کا اندازہ غلط ثابت ہوا ہے۔

دونوں وزراء نے اقتدار کے ایوانوں میں گردش کرنے والی افواہوں اور اپنی معلومات کی بناء پر بتایا کہ کچھ مہربانوں نے صدر کو مشورہ دیا ہے کہ جون میں نئے مالی سال کا جو بجٹ پیش کیا جانا ہے اس کی منظوری کے بعد وزیراعظم کے مشورے سے اسمبلیاں تحلیل کر کے نگران حکومت قائم کریں اور ستمبر/ اکتوبر میں عام انتخابات کا اعلان کر دیں۔

اِن وزراء کا ماننا ہے کہ یہ مشورہ دینے والے سمجھتے ہیں کہ اس سے سب کی توجہ انتخابات کی طرف لگ جائے گی اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کو تیاری کا وقت بھی کم ملےگا۔

جب ان سے دیگر سرکاری ’بقراطوں‘ کی رائے کے بارے میں پوچھا تو وہ ہنسنے لگے اور کہا کہ وہ مروانے والی بات کرتے ہیں۔ اصرار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کیس کے فیصلے کے بعد صدر خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب کروانے کا اعلان کریں۔

ان کے مطابق ایسے میں حزب مخالف والے مستعفی ہوں گے اور جیسے ہی ایسا ہو تو صدر ملک میں ایمرجنسی نافذ کردیں اور اسمبلیوں کی مدت ایک سال بڑھا کر خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب کروا دیں۔

یہ تجویز دینے والوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں پیپلز پارٹی اگر مان جائے تو ٹھیک ورنہ ایک سال مدت بڑھ جانے کے بعد ان کے بیشتر اراکین مستعفی نہ ہونے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

حکومتی مشیروں کی متضاد آراء سے بعض تجزیہ کار اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسن سلیم حیات اور نائب آرمی چیف ریٹائر ہو رہے ہیں اور صدر جب تک دونوں فور سٹار جرنیلوں کے عہدوں پر اپنے پراعتماد ساتھیوں کی تقرری نہیں کر لیتے اس وقت تک خود کو موجودہ اسمبلیوں سے صدر منتخب کروانے کا فیصلہ شاید نہ کر پائیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس بارے میں تلاش جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند ماہ میں تعیناتی کا اعلان ہوگا اور ملک کی مستقبل کی سیاسی صورتحال بھی اس وقت ہی واضح ہوگی۔

چھبیس مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی نقاب پوش بریگیڈ نے آخری دو یرغمالی پولیس اہلکاروں کو بھی چھوڑ دیا ہے۔ حکومت نے مدرسہ انتظامیہ کے خلاف آپریشن کے لیے پنجاب کے کئی اضلاع سے پولیس بھی بلوائی لیکن ہزاروں سپاہی تین روز تاش کھیل کر واپس چلے گئے۔

لال مسجد اور مدرسہ کی انتظامیہ کے حکم پر پولیس اہلکاروں کی یرغمالی اور انتظامیہ کی بے حسی کے بارے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق اور ان کے نائب وزیر عامر لیاقت حسین کہہ چکے ہیں کہ لال مسجد کے پیچھے کوئی خفیہ طاقت ہے۔ لیکن انہوں نے بھی بہت ساروں کی طرح اس ’خفیہ‘ طاقت کی وضاحت نہیں کی۔