http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 27 May, 2007, 13:55 GMT 18:55 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

بی این پی کی ریلی پرپابندی

بلوچستان نیشنل پارٹی کو ایک مرتبہ پھر خضدار میں جلسہ منعقد نہیں کرنےدیا گیا۔ خضدار شہر کے اندر اور داخلی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

بی این پی کے مستعفی ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی اکبر بلوچ نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز ان کے تین کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے جبکہ جماعت کے مستعفی ہونے والے رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل سمیت پانچ قائدین غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیے تمام جمہوری راستے بند کر دیے ہیں۔

اس بارے میں بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق مسعود کھوسہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ خضدار میں حالات معمول پر ہیں اور کہیں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان نیشنل پارٹی پر جلسہ منعقد کرنے پر پابندی عائد کی ہے اس لیے اجازت نہیں دی گئی۔

بی این پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ ان پر ظلم کیا جا رہا ہے اور جو وہ روتے ہیں تو رونے بھی نہیں دیتے یہ کہاں کا انصاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں اس کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

یاد رہے بلوچستان نیشنل پارٹی نے گزشتہ سال نومبر میں گوادر سے کوئٹہ تک لشکر بلوچستان کے نام پر لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن مارچ سے پہلے جماعت کے تمام مرکز اور ضلعی قیادت کو گرفتار کر لیا گیا تھا یہاں تک کے جماعت کے رہنما اور سابق وزیر اعلی بلوچستان سردار اختر مینگل کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بی این پی کو تیرہ مئی کو خضدار میں جلسہ منعقد نہیں کرنے دیا گیا تھا جس کے بعد قائدین نے ستائیس مئی کو جلسے کا اعلان کیا تھا۔