Sunday, 27 May, 2007, 14:10 GMT 19:10 PST
فوجی امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی نئی کتاب ’ملٹری انکارپوریٹڈ: انسائیڈ پاکستانز ملٹری اکانومی‘ فوج کے کاروباری مفادات پر ایک وسیع اور گہری نظر ہے۔ اس کتاب میں وہ کئی پس پردہ حقائق کا ایک اچھوتا رخ پیش کرتی ہیں۔ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام چھپنے والی اس کتاب کی تقریب رونمائی جمعرات اکتیس مئی کو اسلام آباد میں ہو رہی ہے۔ مصنفہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں:
’دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا مثبت امیج بنانے کی کوشش پاکستان کے فوجی صدر کی اس تقریر میں نمایاں تھی جو انہوں نے کراچی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر کی۔ ان کا کہنا تھا:
’تاہم پاکستان کے سیاسی نظام کی نزاکت کو فوج کے سیاسی مفادات پر تخقیق کیے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ فوج کبھی اقتدار سے پیچھے ہٹے گی؟ پاکستان کی مسلح افواج یا کوئی بھی فوج جس کے گہرے معاشی مفادات موجود ہیں، سیاسی طبقے کو حقیقی اقتدار منتقل کرے گی؟ یہ ملک ان ریاستوں کی نمائندگی کرتا ہے جہاں سیاسی طور پر طاقتور فوجیں اپنی بالادستی قائم کرکے ریاست اور معاشرے کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ایسا ریاست، معاشرے اور معیشت میں دور تک رسائی حاصل کرکے کیا جاتا ہے۔
معاشرے اور معیشت میں بگڑی ہوئی مداخلت دفاعی سٹیبلشمنٹ کا ریاست پر کنٹرول قائم کرتی ہے۔ مالیاتی خودمختاری، معاشی دخل اندازی اور سیاسی اختیار ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ایک شیطانی چکر کا حصہ ہیں۔ آج پاکستان کی فوج کی داخلی معیشت بہت وسیع ہے۔ نتیجہ ہے کہ فوج ایک اہم معاشی کھلاڑی بن چکی ہے۔ مل بس کا سب سے نمایاں اور جانا پہچانا حصہ چار فلاحی فاؤنڈیشنں ہیں: فوجی فاؤنڈیشن (ایف ایف)، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (اے ڈبلیو ٹی)، شاہین فاؤنڈیشن (ایس ایف) اور بحریہ فاؤنڈیشن (بی ایف)۔ یہ فاؤنڈیشنں دفاعی سٹیبلشمنٹ کے ذیلی ادارے ہیں جن میں فوجی اور سویلین دونوں طرح کے ملازمین کام کرتے ہیں۔ یہ کاروبار اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت متنوع ہیں جن میں بیکری، فارم، سکول اور نجی سکیورٹی اداروں سے لے کر بنکوں، بیمہ کمپنیوں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز یا کھاد، سیمنٹ اور اجناس کی تیاری کے کارخانوں تک کے کاروبار شامل ہیں۔‘
’پاکستان اور ہندوستان دونوں میں فوج کی کمان سنبھالنے کے لیے جونیئر افسروں کی جلد ترقیوں نے ان کے فوجی ادارے کے معیار کو بحیثیت مجموعی متاثر کیا۔ تاہم، پاکستان میں ایک اور عنصر یہ بھی موجود تھا کہ فوج پر سیاسی کنٹرول ڈھیلا تھا جس نے فوج کے اعلیٰ ترین حلقوں میں سیاسی عزائم پیدا کیے۔ دوسری طرف ہندوستان کی سیاسی قیادت نے سیاسی طبقے اور سول بیوروکریسی کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔‘
’نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستانی فوج نے کمزور سیاسی طبقے کو ایک طرف دھکیل کر خود کو حکمرانی کا کنٹرول براہِ راست سنبھالنے کی جانب بڑھایا۔ پہلا مارشل لاء انیس سو اٹھاون میں نافذ کیا گیا۔ اس وقت سے فوج اقتدار کی سیاست میں اپنے آپ کو بحیثیت برتر قوت کے مستحکم کرتی چلی گئی۔
عائشہ صدیقہ لکھتی ہے کہ ’میں نے اس کتاب کے لیے بنیادی اور ثانوی دونوں ذرائع استعمال کیے ہیں۔ ریسرچ کے دوران مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ میڈیا اور سول سوسائٹی کی طرف سے فوج کی معاشی ایمپائر کو اجاگر کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دستیاب اعدادوشمار مثلاً بعض کمپنیوں کی مالیاتی رپورٹوں کا تجزیہ کرنے کی کوئی باقاعدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ مندرجہ بالا چاروں فاؤنڈیشنوں کی جانب سے چلائے جانے والے چھیانوے منصوبوں میں سے صرف نو سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ میں نے ان فوجی کمپنیوں کی رپورٹوں کو اخبارات کی رپورٹوں کے ساتھ ثانوی معلوماتی ذرائع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جبکہ بنیادی معلوماتی ذرائع میں سے ایک سے زائد انٹرویو ہیں جو کاروباری حضرات، سیاستدانوں، ریٹائرڈ فوجی افسران اور سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں سے کیے گئے۔‘
وہ کہتی ہے کہ ’میں بعض تاریخی حقائق کو ان فاؤنڈیشنز کے موجودہ اور سابقہ مینجروں سے انٹرویوز کے ذریعے یکجا کر پائی۔ اگرچہ ان کے انکشافات محدود تھے، اس سے کچھ اندازہ لگانا ممکن تھا کہ وہ فوج کے معیشت اور سیاست میں عمل دخل کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی کہ زیادہ تر سابق فوجی افسران نے اپنے ادارے کے کاروبار میں ملوث ہونے کی مکمل طور پر تردید کی۔‘
عائشہ صدیقہ کی کتاب کے مزید اقتباسات منگل کو شائع کیے جائیں گے۔