Friday, 25 May, 2007, 19:05 GMT 00:05 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
وکلاء نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یکجہتی اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف احتجاج کی شدت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نرالا انداز اپنایا ہے۔ انہوں نے اپنے موبائل فون سیٹوں میں ’گومشرف گو‘ کا نعرہ ریکارڈ کر کے اس کو رنگ ٹون بنا لیا ہے۔
یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے اجلاس میں خاور محمود کھٹانہ اور میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹس کی طرف سے پیش کی گئی مشترکہ تجویز کو منظور کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ دونوں وکلاء کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی کے وکلاء ونگ پیپلز لائرز فورم پنجاب سے ہے۔
یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتجاج کا اپنی نوعیت کا ایک انوکھا انداز ہے۔
خاور محمود کھٹانہ نے کہا کہ وکلاء کی تحریک اور احتجاج کے جوش وخروش کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وکلاء اپنے اپنے موبائل فون سیٹوں میں ’گو مشرف گو‘ کا نعرہ ریکارڈ کریں۔ اس طرح وکلاء کے احتجاج کو ہمہ وقت موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے گا اور اس مقصد کے لیے ایسے وکلاء جن کے موبائل میں آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود ہو وہ اپنے موبائل فون سیٹوں میں ’گو مشرف گو‘ کا نعرہ ریکارڈ کریں۔
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس نے اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس کے بعد وکلاء نے اپنے موبائل فون سیٹوں میں رنگ ٹونز ریکارڈ کرنی شروع کر دی ہیں۔
خاور محمود ایڈوو کیٹ نے کہا کہ سفر کے دوران اور کسی محفل میں جب اچانک موبائل فون سے ’گو مشرف گو‘ کی آواز آئے گی تو وکلاء تحریک کے حوالے سے اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
احتجاج جاری رہے گا |
انہوں نے کہا کہ اس انوکھے انداز سے وکلاء کا احتجاج ہر جگہ اور ہر وقت جاری رہے گا ۔انہیں افسوس ہے کہ یہ نرالا خیال ان کے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی سہولت کے لیے پیپلز لائرز فورم پنجاب صوبہ بھر میں احتجاجی نعرے کے طریقے سے وکلاء کو تحریری طور پر مطلع کرے گا۔
صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون نے بھی اپنے موبائل فون پر احتجاجی نعرے کی رنگ ٹون محفوظ کرا لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نرالے احتجاج سے نا صرف جنرل مشرف کے خلاف تحریک نے ایک نیا روپ اختیار کرلیا ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ ’پاکستان کی عوام کیا چاہتے ہیں۔‘
ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری سرفراز چیمہ نے کہا کہ یہ احتجاجی نعرہ وکلاء کے علاوہ عام شہری کو بھی اپنے موبائل فون سیٹ میں محفوظ کرنا چاہئیے۔
جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل مظہر علی گھلو نے بتایا کہ انہوں نے بیس روپے کے عوض یہ نعرہ ہال روڈ کی ایک دکان سے اپنے موبائل میں مخفوظ کرایا ہے۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ احتجاجی رنگ ٹونز کی تجویز پیش کرنے والے وکیل خاور کھٹانہ کے اپنے موبائل میں یہ سہولت موجود نہیں ہے تاہم انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب وہ ایسا موبائل فون خرید رہے ہیں جس میں آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت موجود ہو۔