Friday, 25 May, 2007, 01:38 GMT 06:38 PST
پاکستان نےان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل پاکستانی فوجیوں نے کانگو میں ملیشیا کو سونے کے عوض ہتھیار فروخت کیے۔
اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل پاکستانی فوجیوں کے سونے کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی متعلقہ اداروں کے ذریعے مکمل تفتیش کرائی جائے گی۔
جنرل ارشد نے اپنے ملک کے فوجیوں پر لگنے والے ان الزامات کو بے بنیاد کہا۔بی بی سی کے ایک نیوز پروگرام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ گمراہ کن ہے‘۔
جنرل ارشد نے بتایا کہ پاکستانی حکومت کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ کانگو میں تعینات پاکستانی بٹالین کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ بی بی سی کو اس بات کا ثبوت ملا ہے کہ اقوام متحدہ نے بٹالین کے ہیڈ کوارٹر ایک خط بھیجا تھا جس میں تحقیقات کے دوران مکمل تعاون کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ایک افسر نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنیاد پر ان الزامات کی تحقیقات روک دی گئی ہوں۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل دستوں میں سب سے بڑا دستہ پاکستان کا ہے۔
بی بی سی کے انکشاف پر کونگو میں اقوام متحدہ کے مشن نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ انکوائری جاری ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ کانگو میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی فوجی سونے کی تجارت اور کانگو کے ان ملیشیا گروپوں کو ہتھیاروں کی فروخت میں ملوث رہے جنہیں غیر مسلح کرنے کے لیے انہیں کانگو بھیجا گیا تھا۔
بی بی سی کے مارٹن پلاٹ کے مطابق تجارت کا یہ سلسلہ سنہ 2005 میں جاری رہا اور جب سنہ 2006 میں اقوامِ متحدہ کی ایک ٹیم اس حوالے سے ثبوت اکھٹے کرنے کے لیے کانگو گئی تو اس کے کام میں نہ صرف رکاوٹیں ڈالی گئیں بلکہ انہیں دھمکایا بھی گیا۔