Friday, 25 May, 2007, 06:54 GMT 11:54 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں عیسائی برادری نے کہا ہے کہ تقربنًا تین ہفتے قبل ملنے والے دھمکی آمیز خط کے بعد وہ بدستور عدم تحفظ اور سخت خوف وہراس کا شکار ہیں جبکہ ان کے بچوں کی تعلیم اور دیگر روزمرہ معمولات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ چھ مئی کو چارسدہ میں عیسائیوں کے ایک علاقے مسلم محلہ میں نامعلوم افراد کی طرف سے ایک خط پھینکا گیا تھا جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ چارسدہ کی مسیحی برادری ایک ہفتے کے اندر مسلمان ہوجائے یا علاقہ چھوڑ دے بصورت دیگر بم کی کاروائی ہوگی۔
اس خط کے چند روز بعد چارسدہ شوگر ملز کے سامنے گرجا گھر پر ایک چودہ سالہ طالب علم کی طرف سے بھی وہی دھمکی آمیز پیغام تحریرکیا گیا جو خط میں لکھا گیا تھا۔ پولیس نے بعد میں طالبعلم کو گرفتار کرلیا تھا۔
![]() | |
| گزشتہ ہفتوں میں چارسدہ میں وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے جلسہ پر خودکش بھی ہو چکا ہے |
ان کا کہنا تھا کہ ان دھمکیوں کے بعد موت کے سائے ہر وقت ان کے سروں پر منڈلا رہے ہیں اور ان کے کاروبار، بچوں کی تعلیم اور زندگی کے دیگر معمولات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
مذکورہ خط ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب ضلع چارسدہ میں امن وامان کی صورتحال پہلے ہی سے خراب ہے۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران چارسدہ میں وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے جلسہ پر خودکش حملے کے علاوہ فلمیں فروخت کرنے والی سی ڈیز کی دکانوں میں دس کےقریب مختلف بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں درجنوں دکانیں تباہ ہوئی ہیں۔
عیسائی کمیونٹی چارسدہ شہر میں تین مختلف علاقوں میں آباد ہے، تاہم ان کی زیادہ تر آبادی چارسدہ خاص کے مسلم محلہ ، تحصیل اور شوگر ملز کے علاقے میں رہتی ہے۔ تقریباً پانچ سو خاندانوں پر مشتمل اس اقلیتی آبادی میں اکثریت ان خاندانوں کی ہے جو قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے مختلف شہروں سے کام کی غرض سے چارسدہ ہجرت کرکے آباد ہوئے۔ تاہم ان میں ہندستان سے آئے ہوئے عیسائی بھی شامل ہیں جو مردان روڈ پر رہائش پزیر ہیں۔
صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کی طرح چارسدہ میں بھی عیسائیوں کی اکثریت ہسپتالوں میں ملازمت کرتی ہےاور ان میں زیادہ تر کلاس فور ملازمین ہیں۔ اس شہر میں دو گرجا گھر بھی ہیں جہاں پر عیسائیوں کومکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔
پاکستان کے قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں، حجاموں اور سی ڈیز کی دکانوں کو نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط بھیجنا اور انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے لیکن حکومت تاحال ان لوگوں کو بے نقاب کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ دوسری طرف صوبائی وزیر اطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان آصف اقبال دوادزئی کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے وفاقی حساسں اداروں کا ہاتھ ہے اور اس کا مقصد ایم ایم اے کی صوبائی حکومت کو بدنام اور کمزور کرنا ہے۔