http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 23 May, 2007, 15:58 GMT 20:58 PST

پاکستان پر ایمنسٹی کی سالانہ رپورٹ

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو جاری کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں بلاجواز گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی ہلاکتوں اور خواتین اور اقلیتیوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال دو ہزار چھ میں 446 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ 82 کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ پھانسی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے واقعات زیادہ تر صوبہ پنجاب میں ہوئے۔ پھانسی پر لٹکائے جانے والوں میں ایک کم عمر قیدی بھی شامل تھا۔

وہ جو لاپتہ ہیں (خصوصی ضمیمہ)

ایمنسٹی کے مطابق جہاں بلوچستان میں قوم پرستوں اور فوج کے درمیان لڑائی تیز ہوئی وہیں حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان اور قبائلی عمائدین کے درمیان ایک امن معاہدے پر اتفاق کیا۔

بلوچ اور سندھی قوم پرستوں، صحافیوں اور دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے کے شبہہ میں کئی لوگوں کو غائب کر دیا گیا۔ لواحقین نے ان کی بازیابی کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا تو حکومت اور سرکاری خفیہ اداروں کی طرف سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔ تاہم لاپتہ افراد میں سے کچھ نے نمودار ہونے پر حکومتی اداروں پر تشدد اور حراست میں رکھنے کا الزام لگایا۔

لاپتہ افراد کے بارے میں جاری کی گئی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو صدر جنرل پرویز مشرف نے فضول قرار دیا تھا۔

غیرقانونی ہلاکتوں کے ضمن میں وزیرستان کے مقتول صحافی حیات اللہ خان کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے اغواء اور ہلاکت کے واقعہ کے حوالے سے سرکاری سطح پر کی گئی تحقیقات کو منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔

سال دو ہزار چھ میں جنوری اور اکتوبر میں پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت بالترتیب اٹھارہ اور بیاسی افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت نے ہلاک ہونے والوں کو دہشت گرد تو قرار دیا لیکن انہیں گرفتار کرنے یا ان کی کارروائیاں روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہ کیے۔

پاکستانی اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ فضائی حملے امریکہ نے نہیں بلکہ پاکستانی افواج نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کیے، لیکن عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹرز بم گرائے جانے کے بیس منٹ بعد فضاء میں نظر آئے۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنچائتوں اور جرگوں کے ذریعے خواتین کے حقوق غصب کیے جاتے رہے۔ صوبہ سرحد کے اضلاع مردان اور صوابی میں سال دو ہزار چھ کے وسط میں صرف تین ماہ کے دوران ساٹھ خواتین کو تاوان کے طور پر فریقِ مخالف کے حوالے کیا گیا۔

ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے خواتین کو قتل، دہشت گردی اور بدعنوانی کے علاوہ دوسرے تمام مقدمات میں ضمانت کا حق دیا گیا، جس کے نتیجے میں زناء کے الزام میں قید تیرہ سو خواتین کو رہائی نصیب ہوئی۔

ایمنسٹی کے مطابق بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِنو کے کئی منصوبے وسائل کی کمیابی اور انتظامی مسائل کے باعث شروع نہ ہو سکے۔ اکتوبر سال دو ہزار پانچ کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 73000 افراد ہلاک جبکہ پینتیس لاکھ بے گھر ہوئے۔