Tuesday, 22 May, 2007, 17:03 GMT 22:03 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امن کمیٹی نے منگل کی فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ حکومت سے تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امن کمیٹی کے اراکین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں نے یہ کارروائی جلد بازی سے کام لیتے ہوئے کی جن میں بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔
اتمانزئی وزیر قبیلے کے سربراہ اور امن کمیٹی کے رکن ملک نصر اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں دھوکہ دیا ہے اور جس وقت وہ زرگرخیل گاؤں کے لوگوں سے بات چیت میں مصروف تھے تو فوج نے کارروائی شروع کر دی۔
انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کی نفی کی کہ اس گاؤں میں کوئی تربیتی کیمپ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کارروائی میں چار بچوں کو جن کی داڑھیاں بھی نہیں آئی تھیں شہید کیا گیا ہے‘۔
اس کمیٹی کے ایک اور رکن سینیٹر متین شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
مناسب مہلت نہیں |
انہوں نے بتایا کہ مقامی دیہاتیوں نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی اور کہا تھا کہ اگر کوئی شدت پسند برآمد ہوا تو وہ اس کے ہاتھ باندھ کر دیں گے کہ فوجی ان کو لے جائیں۔ تاہم انہوں نے افسوس کیا کہ فوج نے جلدبازی سے کام لیا۔
اس فیصلے میں امن کمیٹی کے جو اراکین شامل ہیں ان میں ملک نصراللہ اور متین شاہ کے علاوہ ملک قادر خان، مولانا میر قاسم خان، ملک عنایت خان، ملک افضل، ملک بوستان، ملک عبدالقادر اور ملک معمور شامل ہیں۔
اس کارروائی کے بارے میں مقامی طالبان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم امن کمیٹی کے اعلان سے حکومت کے لیے شمالی وزیرستان میں صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔