Tuesday, 22 May, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کے قانون میں دوہزار دو کے دوران ہونے والی ترامیم کے تحت متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے اور اس سلسلے میں اپنے وکلاء کے ہمراہ جون کے پہلے ہفتے میں لندن روانہ ہوں گے۔
عمران خان نے یہ بات منگل کو پشاور بار کونسل سے اپنے خطاب کے بعد بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ انکا کہنا تھا کہ ’برطانیہ میں دوہزار دو کو انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون میں جو ترامیم کی گئی تھیں ان کے تحت الطاف حسین پر مقدمہ درج کیا جائے گا اور وہ اس میں پھنس جائیں گے‘۔
اس سے قبل بار کونسل سے اپنے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ برطانیہ کے سفر کے دوران وہ برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر سے یہ سوال بھی پوچھیں گے کہ ’ایک طرف تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بے شمارمسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے جب کہ دوسری طرف، ان کے بقول الطاف حسین جیسے ’دہشت گرد‘ کو برطانیہ کا پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے‘۔
بارکونسل سے خطاب کے دوران عمران خان کی تقریر کا زیادہ تر حصہ ایم کیو ایم اور بطور خاص الطاف حسین کی شخصیت اور سیاسی کردار کے خلاف تھا۔
محرومیوں کی ہائی جیکنگ |
انکا مزید کہنا تھا کہ پچیس مئی کو متحدہ مجلس عمل کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے مجوزہ کانفرنس میں وہ یہ تجویز پیش کریں گے کہ تمام جماعتیں ایک متفقہ فیصلہ کریں کہ جب تک الطاف حسین متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ہیں اس وقت تک اس جماعت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی سیاسی اتحاد نہیں کیا جائے گا۔
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد وکلاء کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کی تعریف کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ تحریک پاکستان کے بعد ملک کی تاریخ کی انتہائی اہم تحریک بن گئی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے وکلاء نے جو سیاسی قیادت فراہم کی ہے وہ سیاسی جماعتیں فراہم نہیں کر سکیں۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف دائر ریفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر افتخار چودھری کو شکست ہوتی ہے تو پھر عدالت میں جاری جنگ سڑکوں پر آجائے گی۔
میں نے کرکٹ سے سیکھاہے: عمران |