Monday, 21 May, 2007, 16:58 GMT 21:58 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپیل کی ہے کہ کال کوٹھری میں قید ایک نوجوان محمد منشاء کی سزائے موت پر عملدرآمد مؤخر کیا جائے کیونکہ کمیشن کے مطابق وقوعہ کے وقت اس کی عمر چودہ برس تھی اور پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔
انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں رابطہ کار علمدار حسین ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے معمول کے دورہ پر سینٹرل جیل ساہیوال گئے تو جیل انتظامیہ نے ان کی توجہ اس نوجوان کی جانب مبذول کروائی اور بتایا کہ چھ برس سے انہیں ملنے کوئی نہیں آیا آخری ملاقات ان کی ماں نے کی تھی جو بعد میں مرگئی جبکہ والد اس کی گرفتاری سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔
انسانی حقوق کمیشن کے مطابق محمد منشاء کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنےوالا کوئی نہیں تھا اور اسے جنوری سنہ دوہزار ایک میں ہونے والے ایک قتل کیس میں سزا سنائی گئی حالانکہ اس وقت وہ صرف چودہ برس کا تھا۔
اوکاڑہ میں انسانی حقوق کے کارکن عملدار حسین نے کہا کہ جب انہوں نے نوجوان سے ملاقات کی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اس سے معلومات حاصل کرکے انہوں نے اس کی آبائی گاؤں دیارام کے پرائمری سکول سے ان کی داخلے کا سرٹییفکٹ حاصل کیا اور مقامی یونین کونسل سے جنم پرچی لی ہے۔
پھانسی میں چند دن رہ گئے ہیں |
علمدار حسین نے کہا کہ اس کی پھانسی میں چند دن رہ گئے ہیں اس لیے ان کی صدر پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ محمد منشا کی پھانسی کو مؤخر کردیں تاکہ ملک میں انصاف دینے والے ادارے ایک بار پھر اس لاوارث قیدی کے کیس کا جائزہ لے سکیں۔
پاکستان کی مختلف جیلوں میں اس وقت سات ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنہیں مختلف عدالتوں سے موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں سزائے موت کے قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملک سے سزائے موت دیے جانے کا قانون ختم کر دیا جائے ۔