http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 21 May, 2007, 16:58 GMT 21:58 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

سزائے موت مؤخر کرنے کی اپیل

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اپیل کی ہے کہ کال کوٹھری میں قید ایک نوجوان محمد منشاء کی سزائے موت پر عملدرآمد مؤخر کیا جائے کیونکہ کمیشن کے مطابق وقوعہ کے وقت اس کی عمر چودہ برس تھی اور پاکستان کے قوانین کے مطابق نا بالغ کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

چار بھائیوں کو پھانسی

عدالت نے محمد منشا کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں جس کے مطابق انہیں انتیس مئی کو سنٹرل جیل ساہیوال میں تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔ محمد منشا اور ان کے تین ساتھیوں کو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے اغوا اور قتل کے الزام میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی گئی تھی ،ہائی کورٹ نے ان کے تینوں ساتھیوں کو بری کر دیا جبکہ محمد منشا کی اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے مسترد ہوگئیں اور اس برس سترہ مارچ کو صدر پاکستان نے رحم کی اپیل بھی خارج کر دی۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں رابطہ کار علمدار حسین ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے معمول کے دورہ پر سینٹرل جیل ساہیوال گئے تو جیل انتظامیہ نے ان کی توجہ اس نوجوان کی جانب مبذول کروائی اور بتایا کہ چھ برس سے انہیں ملنے کوئی نہیں آیا آخری ملاقات ان کی ماں نے کی تھی جو بعد میں مرگئی جبکہ والد اس کی گرفتاری سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق محمد منشاء کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنےوالا کوئی نہیں تھا اور اسے جنوری سنہ دوہزار ایک میں ہونے والے ایک قتل کیس میں سزا سنائی گئی حالانکہ اس وقت وہ صرف چودہ برس کا تھا۔

اوکاڑہ میں انسانی حقوق کے کارکن عملدار حسین نے کہا کہ جب انہوں نے نوجوان سے ملاقات کی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اس سے معلومات حاصل کرکے انہوں نے اس کی آبائی گاؤں دیارام کے پرائمری سکول سے ان کی داخلے کا سرٹییفکٹ حاصل کیا اور مقامی یونین کونسل سے جنم پرچی لی ہے۔

پھانسی میں چند دن رہ گئے ہیں
 علمدار حسین نے کہا کہ اس کی پھانسی میں چند دن رہ گئے ہیں اس لیے ان کی صدر پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ محمد منشا کی پھانسی کو مؤخر کردیں تاکہ ملک میں انصاف دینے والے ادارے ایک بار پھر اس لاوارث قیدی کے کیس کا جائزہ لے سکیں
 

انسانی حقوق کمیشن کی رہنما حنا جیلانی نے رجسٹرار کے توسط سے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک درخواست دی ہے جس میں ان سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لیں۔

علمدار حسین نے کہا کہ اس کی پھانسی میں چند دن رہ گئے ہیں اس لیے ان کی صدر پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ محمد منشا کی پھانسی کو مؤخر کردیں تاکہ ملک میں انصاف دینے والے ادارے ایک بار پھر اس لاوارث قیدی کے کیس کا جائزہ لے سکیں۔

پاکستان کی مختلف جیلوں میں اس وقت سات ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنہیں مختلف عدالتوں سے موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں سزائے موت کے قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملک سے سزائے موت دیے جانے کا قانون ختم کر دیا جائے ۔