http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 20 May, 2007, 16:51 GMT 21:51 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لال مسجد: کارروائی کا امکان بڑھ گیا

حکومت اور وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان اتوار کے روز تنازعے کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فریقین میں الزامات کا تبادلہ جاری ہے اور مسجد انتظامیہ نے کسی بھی متوقع آپریشن کے پیش نظر نئے مورچے قائم کر دیے ہیں۔ کئی طلبہ کی گرفتاری کی بھی خبریں ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اسلام آباد میں بڑی تعداد میں پولیس کی مزید نفری کی آمد سے بھی کسی ممکنہ کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ادھر مسجد شام کے وقت سے جنگی ترانے بجائے جانے اور اردگرد کی سڑکیں بند کرنے کی اطلاعات ہیں۔

لال مسجد کے طلبہ کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد اتوار کو ایک طرف تو حکومت نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی دھمکی دی ہے تو دوسری جانب مدرسے کی انتظامیہ نے دو طلبہ کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جنہیں بقول ان کے خفیہ ایجنیسوں نے اغوا کیا اور ان پر تشدد کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کے بارے میں ابتداء میں مسجد کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی رپورٹ پولیس کے پاس درج کی۔

انہوں نے واضع کیا کہ حکومت خون خرابہ نہیں چاہتی لیکن انہیں مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کے حل کے لیئے مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو پولیس اہلکار مدرسے کے طلبہ نے خود چھوڑے ہیں انہوں نے نہیں کہا تھا۔

وفاقی وزیر کے اس قدرے سخت بیان کے پس منظر میں مدرسہ میں اتوار کو ذرائع ابلاغ کے سامنے دو بھائیوں کو پیش کیا گیا جن کا الزام تھا کہ انہیں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے تیرہ مئی کو راولپنڈی کے ایک ہوٹل سے اٹھایا اور کئی روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد کل رات گئے چھوڑ دیا۔

ان دو طلبہ نے بتایا کہ ان سے رہائی کے وقت ایک بیان حلفی پر دستخط بھی لیئے جس میں ان کو جی ایچ کیو کا وزٹ کرتے پکڑنا دکھایا گیا ہے۔

ان دو افراد کے واپس لوٹ آنے کے بعد مدرسے کے مطابق اب ان کے لاپتہ طلبہ کی تعداد چار رہ گئی ہے جبکہ اتنے ہی سی ڈیز نذر آتش کرنے کے الزام میں جیل میں ہیں۔

لاپتہ طلبہ میں عبدالبصیر، عامر، افتخار احمد اور نقیب اللہ شامل ہیں۔

ادھر پولیس کی بھاری تعداد میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد میں آمد سے کسی کارروائی کی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

دونوں بھائیوں کے والد محمد انور خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضع کیا کہ اس اخباری کانفرنس کے بعد اگر ان کے خاندان کے کسی فرد کے ساتھ کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
مدرسے کے طلبہ ریت کی بوریوں سے نئے مورچے قائم کرتے رہے

مدرسے کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی نے اس موقع پر حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا اگر کوئی کارروائی ہوئی تو تمام ملک کے مدرسے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے طلبہ کی رہائی کی صورت میں باقی ماندہ دو پولیس اہلکاروں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔

لال مسجد کے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اتوار کو مدرسے کے طلبہ ریت کی بوریوں سے نئے مورچے قائم کرتے رہے۔ ادھر مسجد سے جنگی ترانے بجائے جانے اور اردگرد کی سڑکیں بند کرنے کی اطلاعات ہیں۔

مسجد کے سپیکروں سے اعلان جنگ ہوا ہے جس کے بعد طلبہ لاٹھیوں سے مسلح ہوکر باہر نکل آئے ہیں۔

واضح رہے کہ واقع لال مسجد کے لٹھ بردار طالبعلموں نے یرغمال بنائے گئے اسلام آباد پولیس کے چار اہلکاروں میں سے دو کو سنیچر کے روز رہا کردیا تھا۔ طالبعلموں نے ان کو چھوڑنے کے بدلے میں حکومت سے زیرحراست اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔