Saturday, 19 May, 2007, 14:09 GMT 19:09 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سنیچر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حکومت اور حزب مخالف کے سیاسی وزن کو اگر تولا جائے تو حزب مخالف کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کراچی بار سے خطاب کے لیے پہنچنے پر بارہ مئی کے پرتشدد اور جان لیوا واقعات سے حکومت کا درد سر ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے بہیمانہ قتل نے صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے حامیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔
کراچی کے پرتشدد واقعات جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس پر حزب مخالف کا پارلیمان کے اندر اور باہر احتجاج جاری رہا۔ ہفتہ بھر جہاں حزب مخالف نے کراچی واقعات کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی چلنے نہیں دی اور پارلیمان مفلوج ہوکر رہ گیا وہاں کراچی سمیت مختلف شہروں میں ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے کاروبار زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کو چار نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر نیند سے جگا کر موت کی نیند سلا دیا۔ اس واقعہ نے جہاں اسلام آباد کی شہری زندگی کو خوف کی چادر میں لپیٹ لیا ہے وہاں کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
![]() | |
| حماد کے اہلخانہ ان کی موت کو ’ٹارگٹ کلنگ‘ کہہ رہے ہیں (فائل فوٹو) |
حماد رضا کے قتل کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت سپریم کورٹ کے تمام جج ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور مقتول کے غم زدہ اہل خانہ کو انصاف کی یقین دہانی کروائی اور اس قتل کو ایک حساس اور غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا کہ حماد رضا صدارتی ریفرنس میں ان کے ایک اہم گواہ تھے۔
حکومت کی جانب سے حماد کے قتل کو تحقیقات سے قبل ڈکیتی کی واردات قرار دینا اور وزیراعظم کی جانب سے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کو عدالتی تحقیقات پر مامور کرنے پر بھی کئی سوالات اٹھے۔
سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا اور حکومت سے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا کوئی جج اس کی تحقیقات کرے۔ بظاہر تو عدالت عظمیٰ نے بروقت مداخلت کرکے اچھا کیا لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ ہوتا کیا ہے۔
سپریم کورٹ بار میں بعض وکلاء کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ مقتول ایڈیشنل رجسٹرار چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے انتہائی قریبی اور بااعتماد افسر تھے۔ ان کے اچانک قتل سے کس کو فائدہ ہوسکتا ہے؟۔ اس بارے میں بھی طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور آگے چل کر شاید یہ قتل بہت ساروں کے گلے کی ہڈی بھی بن سکتا ہے۔
![]() | |
| لال مسجد کے طلباء نے جمعہ کو پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا (فائل فوٹو) |
حسب معمول پولیس انتظامیہ نے اس بار بھی اسلام آباد کے طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے مذاکرات کو ترجیح دی اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مک مکا کرلی۔ چند ہفتے قبل لال مسجد کے امام کے حکم پر طلباء نے دو پولیس اہلکاروں کو سرکاری گاڑیوں سمیت یرغمال بنایا تھا اور اپنے مدرسے کی قید خواتین اساتذہ کی رہائی کے بدلے انہیں چھوڑا تھا۔
سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندے ’اسلام آباد کے طالبان‘ کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے اغواء کو بلوچستان اور وزیرستان میں حکومتی رِٹ قائم کرنے کے جوش میں فضائیہ سے بمباری اور زمینی افواج سے اپنے ہی شہریوں کے خلاف آپریشن کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ قرار دے رہے ہیں۔
![]() | |
| صدر نے متحدہ کے بارہ مئی کو کراچی کے پرتشدد واقعات میں ملوث قرار دیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا (فائل فوٹو) |
صدر کی اس عجیب منطق کے بارے میں سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کرتا رہا کہ کیا کراچی میں کسی اور کو سیاست کی اجازت نہیں یا جو کچھ ایم کیو ایم نے کیا یا اپنا قلعہ بچانے کے لیے کل جو کرنا چاہے تو وہ جائز ہوگا؟