Saturday, 19 May, 2007, 15:02 GMT 20:02 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان اسمبلی نے بارہ مئی کو سانحہ کراچی کے خلاف تعزیتی قرار داد کثرت رائے سے منظور کی ہے اورحزب اختلاف نے اسی واقعہ کے خلاف دو مزید تحاریک التواء پیش کیں تو کورم ٹوٹ گیا۔
سنیچر سے شروع ہونے والے اجلاس میں زیاد وقت کراچی میں بارہ مئی کو پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے بحث کی گئی۔ ایک تعزیتی قرار داد میں حزب اختلاف کے اراکین نے کراچی کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے جذباتی تقریر میں کہا کہ کراچی صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ سندھیوں بلوچوں اور پشتونوں سب کا ہے لیکن حکمرانوں کی ایما پر یہ سب کھیل کھیلا گیا۔
بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچ اگر اپنے حقوق مانگتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے لیکن جو جماعت دہشت گردی میں ملوث ہے اسے کچھ نہیں کہا جا رہا۔
حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی امور کے صوبائی وزیر عبدالرحمان جمالی نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اس واقعہ کی مذمت کی لیکن ساتھ ہی سپیکر کو لکھی ہوئی پرچی پڑھ کر سنائی جس میں کہا گیا کہ اس قرار داد پر ووٹنگ وغیرہ نہیں ہوسکتی لیکن سپیکر کے اپنے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کر سکتے ہیں۔
سپیکر کی جانب سے رائے مانگنے پر بیشتر نے اس کی حمایت کی۔ صرف مسلم لیگ کے کچھ ارکان نے نہ تو قرار داد کے حق میں ہاتھ اٹھایا اور ناں ہی قرار داد کے خلاف ہاتھ اٹھایا۔
اس کے بعد پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے اس موضوع پر علیحدہ علیحدہ تحاریک التواء پیش کیں جن میں ایک جماعت پر سخت تنقید کی گئی۔ لیکن ان پر بحث اس لیے نہیں ہو سکی کیونکہ حکمران مسلم لیگ کے اراکین اچانک ایوان سے باہر نکل گئے اور ایک رکن بسنت لعل نے کورم کی نشاندہی کرا دی۔