Saturday, 19 May, 2007, 14:25 GMT 19:25 PST
برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت الطاف حسین پر کراچی میں تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق الزامات کی تفصیلی تفتیش کرے گی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سائمن قادری نے یہ بیان بی بی سی اردو کے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں دیا جس کے مطابق برطانوی قانون کے تحت کوئی بھی شخص برطانیہ میں رہتے ہوئے برطانیہ کے اندر یا باہر تشدد کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا تو برطانوی حکومت اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کے بارے میں کیا کر رہی ہے جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم اور ان کے قائد الطاف حسین پاکستان میں تشدد میں ملوث ہو سکتے ہیں؟۔
ترجمان نے کراچی میں ہونے والے واقعات کی مذمت کی اور تمام جماعتوں سے صبر و تحمل کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر الطاف حسین پر ایسے الزامات لگے تو برطانوی حکومت ان کی تفصیلی تفتیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ اس موضوع پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا:’میں یقین دلا سکتا ہوں کہ اگر ایسے الزام لگائے گئے ہیں تو برطانوی حکومت اپنے طور پر ان کا جائزہ لے رہی ہے‘۔
ان سے پوچھا گیا کہ سابق وزیراعظم بینظر بھٹو نے پاکستان میں الطاف حسین کے خلاف قائم مقدمات کے حوالے سے برطانیہ سے انہیں پاکستان واپس بھجوانے کی درخواست کی تھی تو وزارتِ خارجہ کےترجمان نے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسی رہی ہے کہ لوگوں کے تحفظ اور ان کی شہرت کے خیال سے ایسے معاملات میں اس وقت ہی بیان دیا جاتا ہے اگر گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو جائیں۔