http://bbc.com.im/urdu/

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ

جمعہ کو بھی پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا کی کارروائی کراچی میں بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کے خلاف احتجاج کی وجہ سے ٹھپ ہوکر رہ گئی۔

جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو حزب مخالف کے اراکین نے ’جرنل کرنل کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے جس پر چیئرمین سینیٹ نے ایوان کی کارروائی نو جون تک ملتوی کردی ہے۔

جمعہ کو سینیٹ کے حالیہ اجلاس کا مسلسل چوتھا روز تھا جب حزب مخالف نے کارروائی چلنے نہیں دی اور ہفتہ بھر سے حکومت ایوان میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود ایوان کی کارروائی چلانے میں ناکام رہی ہے۔

متحدہ حزب مخالف کے اراکین سینیٹ ایوان سے نعرہ بازی کرتے ہوئے پارلیمان کے سامنے پہنچے اور دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں نے کہا کہ وہ کراچی میں پچاس کے قریب معصوم افراد کی ہلاکت کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

 حزب مخالف کا الزام تھا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ان کے جلوسوں پر فائرنگ کی لیکن ایم کیو ایم نے اس سے انکار کرتے ہوئے حزب مخالف پر جوابی الزام لگایا تھا۔ بارہ مئی کو حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم نے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں جلوس بھی نکالا تھا
 

حزب مخالف کے دھرنے میں حکومت کے حامی رکن انجنیئر رشید خان بھی شریک ہوئے اور ان کی آمد پر اراکین نے تالیاں بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔

اس موقع پر قائد حزب مخالف رضا ربانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ناکام ہوگئی اور قومی عبوری حکومت کے قیام تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ بارہ مئی کو کراچی میں جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بار سے خطاب کے لیے پہنچے تو حزب مخالف کی تمام جماعتوں اور وکلاء کے جلوس چیف جسٹس کے خیرمقدم کے لیے نکلے تو ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔

حزب مخالف کا الزام تھا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ان کے جلوسوں پر فائرنگ کی لیکن ایم کیو ایم نے اس سے انکار کرتے ہوئے حزب مخالف پر جوابی الزام لگایا تھا۔ بارہ مئی کو حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم نے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں جلوس بھی نکالا تھا۔

حکومت نے کراچی میں ایئر پورٹ جانے والی سڑک بند کردی تھی اور چیف جسٹس ہوائی اڈے پر کئی گھنٹے انتظار کے بعد واپس اسلام آباد آگئے تھے۔

یاد رہے کہ پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں بھی حزب مخالف نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کارروائی بلاک کردی تھی اور حکومت نے غیر معینہ مدت تک اجلاس کی کارروائی ملتوی کردی تھی۔