Friday, 18 May, 2007, 21:49 GMT 02:49 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عمارت میں ملک کے حالیہ بحران
کے بارے میں ایک مصور کی بنائی ہوئی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔
مصور عبدل حمید کی اپنی نوعیت کی اس پہلی نمائش کا افتتاح انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے کیا۔ نمائش میں پیش کی جانے والی انتیس تصاویر حالیہ ملکی صورت حال پر ایک تبصرہ ہے۔
نمائش کاعنوان ’جو بچا تھا مقتلِ شہر میں‘ ہے اور فن پاروں کو حالیہ عدالتی بحران میں مستعفی ہونے والے ججوں کے نام منسوب کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سیاسی صورت حال پر کارٹون بنانے کی روایت تو موجود ہے لیکن پیٹنگ کو سیاسی جدوجہد کا اظہار بنانے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سو برس سے زائد کی تاریخ میں تصاویر کی نمائش کا پہلا موقع ہے اور یہ تصاویر بار کے تاریخی کیانی ہال اور اس سے ملحق برآمدوں میں آویزاں کی گئی ہیں۔
تصاویر میں عدالتی بحران کے تمام فریقوں کو مختلف استعاروں میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نمائش میں تصاویر کے لیے روایتی فریم سے ہٹ کر جیل کی سلاخوں کا جنگلہ ہے، کینوس پر تصاویر انہی سلاخوں کے پیچھے لگائی ہیں۔
مصور عبدل حمید کا کہنا ہے کہ یہ نمائش اس بڑی جدوجہد میں حصہ لینے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے جس کا بیڑہ اس ملک کی وکلا برادری نے اٹھایا ہے اور انہوں نے اس ملک کا ایک باشعور شہری ہونے کے ناطے قرض ادا کیا ہے۔
مصور کے بقول تصاویر میں ملک کی مجموعی صورت حال کو ایک ویرانے سے تشبیہہ دی گئی ہے جس پرگدھ سایہ فگن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینوس پر تصاویر انہی سلاخوں کے پیچھے لگائی ہیں جو بقول ان کے آمر حکمرانوں کی اس خواہش کا اظہار ہیں کہ اس ملک کے شہریوں کی تمام بنیادی آزادیاں سلب کر کے ایک قید کی صورت حال پید کردی جائے۔
نمائش چوبیس مئی تک جاری رہی گی جس کے بعد اسے اسلام آباد منتقل کردیا جائےگا جہاں چھبیس مئی کو وکلاء کا ملک گیر کنونشن ہورہا ہے۔