http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 19 May, 2007, 01:15 GMT 06:15 PST

الطاف حسین پر عمران کےالزامات

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ وہ بارہ مئی کو کراچی میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی آمد کے موقع پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے سلسلے میں لندن آ کر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بی بی سی ٹی وی کے حالات حاضرہ کے مقبول تجزیاتی پروگران نیوز نائٹ میں گزشتہ شب ایم کیو ایم پر کراچی میں 12 مئی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے کہا کہ بارہ مئی کو ’ہمارے دس کارکنوں کو گولیاں لگیں جن میں سے چار ابھی تک ہسپتال میں ہیں اور وہ اپنے وکلاء سے مشورہ اور شواہد جمع کر رہے ہیں‘۔

 میں اپنے وکلاء سے مشورے کر رہا ہوں اور لندن آ کر الطاف حسین کے خلاف شواہد پیش کروں گا۔ مجھے حیرت ہے کہ الطاف حسین کا ’ٹریک ریکارڈ‘ جانتے ہوئے انہیں ٹونی بلیئر کی حکومت نے برطانوی شہریت کیسے دے دی؟
 
عمران خان

پروگرام میں ایم کیو ایم کے ترجمان محمد انور نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ جماعت نے کارکنوں کو پر امن رہنے اور کسی سے مشتعل نہ ہونے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے وڈیو پر شواہد موجود ہیں کہ دوسری جماعتوں کے لوگ ہاتھوں میں اسلحہ لیے شہر میں فائرنگ کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ انہوں نے بتایا کہ الطاف حسین مصروفیت کی وجہ سے پروگرام میں شرکت نہیں کر سکے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے وکلاء سے مشورے کر رہے ہیں اور لندن آ کر الطاف حسین کے خلاف شواہد پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ الطاف حسین کا ’ٹریک ریکارڈ‘ جانتے ہوئے انہیں ٹونی بلیئر کی حکومت نے برطانوی شہریت کیسے دے دی؟ انہوں نے الطاف حسین کے لیے ’دہشت گرد‘ کا لفظ استعمال کیا۔