Thursday, 17 May, 2007, 13:50 GMT 18:50 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کو بتایا کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان کو دوسرے ججوں سے مختلف تسلیم کر لیا گیا تو پھر وہ آئین میں ججوں کو دیے گئے تحفظ سے محروم ہو جائیں گے اور وفاقی حکومت ان کو ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے عہدے سے برخاست کر سکے گی۔
وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی ایک جج ہیں اور وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اس موقع پر فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ موجودہ کیس میں تو حکومت نے نوٹفیکشن بھی جاری کرنا پسند نہیں کیا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت تئیس دوسری ایسی درخواستوں کی سماعت اکیس مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
![]() | |
| ’عوامی دباؤ کے باوجود دو جج صاحبان کے حکومتی وکیل کے ساتھ لنچ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے‘ |
جسٹس ملک قیوم نے کہا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ملک قیوم نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔
ملک قیوم نے کہا آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت اپنے ذاتی مسئلے کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک نہیں دی جا سکتی اور یہاں صرف وہی مقدمہ لایا جا سکتا ہے جو مفاد عامہ سے متعلق ہو۔
لنچ کی دعوت |
ملک قیوم نے اپنے دلائل کے دوران زیادہ وقت ملائیشیا کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو واضح کرنے میں صرف کیا جس کا ذکر صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے ایک روز پہلے کیا تھا۔ سید شریف الدین پیزادہ نےملائیشیا کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپیاں عدالت کے حوالے کر دی تھیں لیکن جسٹس ریٹائرڈ ملک قیوم نے ملائیشیا کی سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا۔
ملائیشیا کی سپریم کورٹ کا فیصلہ اس عدالتی بحران سے متعلق ہے جس میں سپریم کورٹ کے ان ججوں کو بھی نکال دیا گیا تھا جنہوں نے چیف جسٹس آف ملائیشیا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے کارروائی کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔
’انصاف کی بگھی‘ |
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ جب آئین بنانے والوں نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جاری کارروائی کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی تو سپریم کورٹ کو بھی اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو عدالتی چیلنجوں سے بچا کر رکھنے میں کچھ حکمت تو ہو گی۔
جسٹس ملک قیوم نے جب کہا کہ جج اور وکیل ’انصاف کی بگھی‘ کے مشترکہ مسافر ہیں اور ججوں اور وکلاء کی آپس میں دوستیں بھی ہوتی ہیں۔ اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ دوستی کے باوجود ملک قیوم نے انہیں کبھی لنچ کی دعوت نہیں دی ہے۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے دائیں اور بائیں وہ دونوں جج بیٹھے تھے جن کے بارے اخبارات میں خبریں چھپی تھیں کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کیے جانے کے بعد انہیں صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ کے ہمراہ لنچ کرتے دیکھا گیا تھا۔
جسٹس ملک قیوم نے کہا کہ چونکہ مقدمہ جاری ہے اس لیے وہ اعتزاز احسن (جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل) کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ کے ججوں کو لنچ کی دعوت دے سکتے ہیں۔ اس موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کو لنچ کی دعوت نہیں دے سکتے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے عوامی دباؤ کے باوجود دو جج صاحبان کے حکومتی وکیل کے ساتھ لنچ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے لیکن وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں عدالت میں یہ معاملہ وفاقی حکومت کے وکیل اٹھا رہے ہیں۔
جسٹس کے دوست |
جسٹس فقیر محمد کھرکھر نے کہا کہ اگر کوئی جج کسی وکیل یا درخواست گزار سے ملنے کی وجہ سے مقدمہ سننے کا اہل نہیں رہتا تو’ ہم سب‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قریبی دوست ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے قریبی دوست نہیں بلکہ چیف جسٹس کے قریب رہ کر کام کرتے ہیں۔
جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ اگر کوئی جج پارٹی میں شمولیت یا لنچ کھانے سے متاثر ہو سکتا ہے تو پھر وہ جج نہیں ہے۔
جسٹس ملک قیوم کی درخواست پر تیرہ رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت اکیس مئی تک ملتوی کر دی۔
اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مقدمے کی سماعت حکومت کے وکیل کے کہنے پر ملتوی ہوئی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حامد خان نے کہا کہ عدالتوں کی چھٹیوں سے پہلے مقدمے کو مکمل ہو جانا چاہیے۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سپریم کورٹ کی چھٹیاں جولائی کے پہلے ہفتے سے شروع ہوگی اور امید ہے کہ یہ مقدمہ اس سے پہلے ختم ہو جائےگا۔
مقدمے کی اگلی سماعت پیر کو ہوگی اور ہفتے میں چار دن جاری رہے گی۔