Wednesday, 16 May, 2007, 18:52 GMT 23:52 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مرکزی مسجد کے خطیب اور جامعہ حفصہ کے مہتمم مولانا محمد عبدالعزیز نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزی مسجد کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ طلبہ و طالبات کے لال مسجد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔
اس اقدام کی وجہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی آڑ میں مبینہ طور پر ان کے ساتھ منسلک افراد کا اغوا اور ان کے مطالبات منظور کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینا بتایا گیا ہے۔
اجلاس میں بارہ مئی کو کراچی میں قتل وغارت گری اور اُسی روز اسلام آباد میں حکمران جماعت کی جانب سے ناچ گانے کی تقریب منعقد کرنے پر غم وغصے کا اظہار کیا۔
اجلاس میں حکومت پر مسمار کی جانے والی مساجد کی تعمیر نو کا ادھورا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا الزام بھی عائد کیاگیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سات مساجد کی تعمیر اور نمازوں کے شروع ہونے تک صرف نوٹیفیکشن کافی نہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی رویہ معاملے کو ختم کرنے میں سنجیدگی کا حامل نہیں لہٰذا مزید مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے۔
اس اعلان پر ابھی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مولانا عبدالعزیز نے شریعت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لال مسجد میں نفاذ شریعت کے لیے شریعت کورٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے حکومت کو ویڈیو کی دکانوں اور قحبہ خانوں کو بند کرنے کے لیے بھی ایک مہینے کی مہلت دی ہے اور ان کو بے حیائی کے اڈے قرار دیتے ہوئےکہا کہ اگر حکومت ان کو بند کروانے میں ناکام ہوئی تو طلباءان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بعد میں مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کیا اور اس میں کامیابی کے دعوے بھی کیے تاہم لال مسجد انتظامیہ کے تازہ اعلان سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ معاملہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا ہے۔