Tuesday, 15 May, 2007, 13:50 GMT 18:50 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ پشاور میں ہونے والے حملے کو طالبان کے اہم رہنما ملا داد اللہ کی ہلاکت سے براہِ راست نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ ان کی ہلاکت میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا۔
ادھر وفاقی حکومت نے پشاور دھماکے کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم روانہ کر دی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ ہونے کا ردِعمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک، قوم اور اسلام دشمن عناصر کی کارروائی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہے جبکہ تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بظاہر خودکش حملہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے مقام سے دو ٹانگیں اور خودکش حملے میں استعمال ہونے والے نٹ ، بولٹ ملے ہیں جبکہ دھماکے کے مقام پر کوئی گڑھا بھی نہیں پڑا ہے تاہم ’اس بارے میں حتمی رائے ماہرین کی تحقیقات کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے‘۔
انہوں نے اس بارے میں بھی کوئی واضح جواب دینے سے انکار کیا کہ اس دھماکے کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا’ماضی میں ان کا تعلق قبائلی علاقوں یا سرحد پار سے ثابت ہوا ہے لیکن اس قسم کی کوئی بات کرنا قبل از وقت ہوگا‘۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ پر خودکش حملے کی واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں جلد کامیابی ملنے کی امید ہے۔
جاوید اقبال نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے مجرموں تک پہنچنے میں ناکامی رہی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ گزشتہ تین چار برس میں کئی افراد کو ان حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے سزائیں دلوائی جا چکی ہیں۔