Monday, 14 May, 2007, 06:43 GMT 11:43 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹانک
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک میں نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس کی گاڑی پر دستی بم کے حملے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کا ایک سپاہی اور شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دس شہری زخمی ہوئے ہیں۔
انتظامیہ نے عارضی طور پر کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے۔ یہ واقع شہر کے ڈورنڈ گیٹ کے قریب پیش آیا ہے۔ زخمیوں میں ایک ہاکر بھی شامل ہے۔
ٹانک شہر کے وزیر آباد علاقے میں صبح سوا نو بجے کے لگ بھگ ایک جیپ میں سوار نامعلوم افراد نے سکیورٹی اہلکاروں کی ایک گاڑی پر دستی بم پھینکا جس سے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دو جبکہ پولیس کا ایک سپاہی زخمی ہوا ہے۔
اس واقعے کے بعد شہر میں جگہ جگہ فائرنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ خوفزدہ تاجروں نے بازار بند کر دیا جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے بکتر بند گاڑیوں میں گشت شروع کر دی ہے۔ فائرنگ میں ہلکے اور بھاری اسلحے کا استعمال ہو رہا ہے۔
اس سے قبل مارچ میں مقامی شدت پسندوں کی جانب سے شہر پر حملے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقع ٹانک شہر میں حالیہ دنوں میں بم دھماکوں اور پولیس پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس قسم کے واقعات سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔