http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 14 May, 2007, 04:21 GMT 09:21 PST

رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ قتل

نامعلوم مسلح افراد نے پیر کو علی الصبح سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کو اسلام آباد میں ان کے گھر پرگولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق سید حماد رضا کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اے ایف پی نے اسلام آباد پولیس کے افسر محمد اسلم کے حوالے سے بتایا ہے کہ’نامعلوم مسلح افراد حماد رضا کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں گولی مار کر قتل کر دیا‘ ۔

ایڈیشنل رجسٹرار کا قتل
’حماد کا قتل ٹارگٹ کلنگ ہے‘

سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کے قتل کے محرک کا فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے اور پولیس اس قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حماد رضا جسٹس افتخار محمد چودھری کا ایک انتہائی اہم گواہ تھے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ ان کو پتہ تھا کہ سرکاری ادارے حماد رضا پر دباؤ ڈال رہے تھےاور ان سے حکومت کے مقدمے کے حق میں کچھ کہلوانا چاہتے تھے جو شاید وہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔

حماد رضا ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے اور بلوچستان حکومت میں کام کرتے تھے اور جب جسٹس افتخار محمد چودھری نے پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا تھا تو انہیں ڈیپیوٹیشن پر اسلام آباد لایا گیا تھا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کو پیر کی شب لاہور کے ایک قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔

مرحوم کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی جس میں سرکاری حکام اور وکلا رہنماؤں سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نے شرکت کی۔

حماد رضا کی میت پیر کی شب موٹر وے کے راستے اسلام آباد سے لاہور لائی گئی تھی۔