Sunday, 13 May, 2007, 15:42 GMT 20:42 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی میں جب بھی امن امان کی صورتحال بگڑتی ہے تو رینجرز کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ رینجرز بیک اپ فورس ہے جسے بہ وقت و ضرورت طلب کیا جاتا ہے، لیکن عام لوگ اس کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے۔
کراچی میں گیارہ مئی کی رات کو ہی شہر کے مرکز میں کئی مقامات پر رینجرز تعینات تھےاور بارہ مئی کو آٹھ ہزار رینجرز اہلکار موجود تھے مگر شہر میں کہیں بھی ان کا ایسےمسلح افراد سے کوئی سامنا نہیں ہوا جو لوگوں کو ٹارگیٹ بنا رہے تھے۔
تیرہ مئی کو بھی شہر میں رینجرز اہلکار ان علاقوں میں نظر آرہے تھے جہاں واقعہ ہونے کے بعد ردعمل کا خدشہ موجود تھا۔
رینجرز کو سال انیس سو چورانوے میں صوبائی حکومت کی درخواست پرامن و امان کی بحالی کے لئے عارضی طور پرطلب کیا گیا تھا مگر اس مدت میں ہر سال توسیع ہوتی رہی ہے۔
اس توسیع کے لئے آئی جی سندھ پولیس ایک رسمی درخواست دیتے ہیں کہ سندھ پولیس کے پاس مطلوبہ پولیس نفری اور سہولیات نہیں ہیں لہٰذا رینجرز کی تعیناتی میں ایک سال کی توسیع کی جائے۔
ابتدائی طور پر جب سندھ حکومت نے رینجرز کو طلب کیا تھا ، تب وفاقی حکومت نے آدھے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں صوبائی حکومت کو یہ رقم ادا نہیں کی گئی۔
اس معاملے پرصوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان ایک عرصے تک تنازعہ چلتا رہا رینجرز کو اب مستقل سندھ میں رکھنے کا فیصلہ زیر غور ہے ، ماضی میں آپریشنز کی وجہ سے ایم کیو ایم صوبے میں رینجرز کے قیام کی سخت مخالفت کرتی رہی ہے لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ بھی رینجرز کو مستقل طور پر تعینات کرنے کے حامیوں میں شامل ہوگئی ہے۔
سندھ حکومت پاکستان رینجرز کو صوبے میں مستقل طور پرتعینات کرنے کے لئے آمادہ ہوگئی ہے۔ اوراس مقصد کے لئے مختلف اضلاع میں سینکڑوں ایکڑ زمین رینجرز کو دینے کا اصولی طور فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔
اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو رینجرز کی رہائش، دفاتر، اور دیگر سہولیات کے لئے تقریباً ساڑھے چودہ کروڑ روپے فراہم کئے ہیں۔ جبکہ ان تعمیرات کے لئے سندھ حکومت زمین فراہم کرے گی۔
کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں سکول، کالج، تعلیمی ہوسٹل، کھیلوں کے میدان اور دیگر مقامات رینجرز کو دیئے گئے تھے۔
رینجرز حکام نے کراچی میں کورنگی کے علاقے میں ایک سو ایکڑ ، بن قاسم میں پچاس ایکڑ ، لانڈھی میں چوبیس ایکڑ ، کیماڑی میں پچاس ایکڑ ، گھوٹکی میں ایک سو نوے ایکڑ ، سانگھڑ میں پونے دو سوایکڑ ، خیرپور میں پچہتر ایکڑ ، عمرکوٹ میں ایک سو ایکڑ ، تھر میں دو سو ایکڑ اوراسی طرح سے لاڑکانہ ، حیدرآباد ، بدین اور ٹھٹھہ وغیرہ میں بھی زمین طلب کی ہے۔
![]() | |
| حال ہی میں اسکولوں کی مانیٹرنگ کا کام بھی رینجرز کے حوالے کیا گیا تھا |
گذشتہ دو سال سے سندھ میں امن و امان کے علاوہ رینجرز سے زرعی پانی کی نگرانی کا کام بھی لیا جاتا رہا ہے اور حال ہی میں سکولوں کی مانیٹرنگ کا کام بھی رینجرز کے حوالے کیا گیا ہے ۔
وفاقی ادارہ ہونے کی وجہ سے رینجرز کا رابطہ گورنر سے ہوتا ہے اور وہ مقامی تعیناتی کے باوجود صوبے میں بظاہر کسی کو جوابدہ نہیں ہوتی۔
پولیس حکام بھی اندرونی طور پر اس پر تنقید کرتے ہیں کہ بدامنی کا ذمہ دار صرف پولیس کو ہی ٹھرایا جاتا ہے مگر شہر میں اور بھی کئی فورسز موجود ہیں اور وہ بھی اس کے لیے برابر کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔