Saturday, 12 May, 2007, 00:52 GMT 05:52 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سنیچر کو حکمران مسلم لیگ کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے ہونے والے جلسہ عام کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
یہ ملکی تاریخ کا پہلا عوامی جلسہ ہوگا جو پارلیمان کے سامنے منعقد کیا جا رہا ہے اور جس کے لیے پارلیمان کو جانے والے تمام راستے بند کیے گئے ہیں جبکہ صدر جنرل مشرف کا بھی اسلام آباد میں یہ پہلا عوامی جلسہ ہوگا۔
جلسے میں حفاظتی انتظامات کے لیے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے چار ہزار سے زائد اہلکاروں کو طلب کیا گیا ہے جبکہ رینجرز اور فوج کے اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حزب اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اس جلسہ عام کے اخراجات سرکاری خزانے سے پورے کیے جا رہے ہیں۔
![]() | |
| جلسے سے صدر مشرف اور وزیرِ اعظم شوکت ترین خطاب کریں گے |
پنجاب کے وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی نے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس میں کیمپ آفس قائم کر دیا ہے۔ جمعہ کی سہ پہر وہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی نفی کی کہ جلسہ عام کے انتظامات کے لیے سرکاری وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ساری فنڈنگ پاکستان مسلم لیگ، اسکے عہدیدار، ہمارے ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے اپنے طور پر کررہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کو ہم نے کرایہ بھی ایڈوانس دیدیا ہے اور ٹول ٹیکس بھی پیشگی ہی ادا کر دیا ہے۔ کوئی کام آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جس میں سرکاری وسائل کا استعمال ہورہا ہو۔‘
![]() | |
| سیاسی جماعتوں نے مشرف مخالف تحریک تیز کر دی ہے |
واضح رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس داخل ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف کا یہ چھٹا عوامی جلسہ ہوگا۔ اس جلسے کے بارے میں حکمران مسلم لیگ کے رہنماؤں کا دعوی ہے کہ وہ اب تک چیف جسٹس کے حق میں حزب مخالف کی جانب سے منعقد کردہ جلسے جلوسوں سے بڑا ہوگا اور ان کے مطابق اس کا ایک مقصد یہ ثابت کرنا بھی ہے کہ عوام کی اکثریت حزب مخالف سے زیادہ صدر جنرل مشرف کے ساتھ ہے۔