Saturday, 12 May, 2007, 18:24 GMT 23:24 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کو کراچی میں ہونے والے تشدد کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، ان کے وکلاء اور حزب اختلاف کی جماعتوں پر عائد کی ہے۔
یہ بات انہوں نے کراچی میں سارا دن جاری رہنے والے تشدد کے واقعات کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں سنیچر کی شب پارلیمان کے سامنے حکمران مسلم لیگ (ق) کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں سب متحد رہیں۔
اسلام آباد میں بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے امکان کو بالکل رد کر دیا۔
صدر مشرف کے اس جلسے کے انعقاد کا مقصد حکمران جماعت مسلم لیگ کے عہدیداروں کے بقول یہ ثابت کرنا تھا کہ عوام کی اکثریت حزب مخالف سے زیادہ صدر جنرل مشرف کے ساتھ ہے۔
![]() | |
| صدر مشرف نے دعویٰ کیا کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے |
جنرل مشرف نے کراچی میں چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر متحدہ قومی موؤمنٹ کی ریلی کا تذکرہ کیے بغیر کہا کہ کراچی میں بھی لوگوں نے حکومت کے حق میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا لیکن کچھ عناصر نے اس طاقت کے خلاف انتشار پھیلانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو لوگ شہید ہوئے ان کی جانوں کی قربانیاں عدلیہ کی صحیح آزادی کی راہ میں ہوئی ہیں۔
جنرل مشرف نے چیف جسٹس کی معطلی اور ان کے خلاف صدارتی ریفرنس پر احتجاج کرنے والوں کو منفی عناصر کہا اور وکلاء اور حزب اختلاف کا نام لیے بغیر ان سے بارہا کہا کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج بند کریں۔
![]() | |
| وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی اس معاملے میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی |
صدر مشرف نے کہا:’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح عدلیہ کو آزاد کیا جارہا ہے تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں‘۔
انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا:’اگر عدلیہ کو آزاد دیکھنا چاہتے ہو تو سیاست بند کرو، سیاسی لوگوں میں مت گھسو اور عدلیہ کو آزاد رہنے دو‘۔
جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ تشکیل دے دی گئی ہے۔ اسے آزادی سے فیصلہ کرنے دیں۔ اس کا وہ خود اور ان کی حکومت احترام کرےگی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور یہ جلسہ اس بات کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور اس کے بعد عام انتخابات ہوں گے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا: ’ہم عدلیہ کی عزت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عدلیہ آزاد ہو لیکن کسی سیاسی جماعت کو اس معاملے پر سیاست چمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔
جلسے سے حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین، وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ ، وزراء اور دیگر عہدیداران نے بھی خطاب کیا۔
جلسے میں شرکت کے لیے صوبہ پنجاب اور سرحد سے لوگوں کی بڑی تعداد کو اسلام آباد لایا گیا تھا اور یہ ذمہ داری حکمران مسلم لیگ سے وابستہ وفاقی و صوبائی وزراء اور ارکان پارلیمان کے علاوہ ضلعی ناظمین کو خصوصی طور پر سونپی گئی تھی۔
![]() | |
| وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک ہفتے سے جلسے کی تیاریوں میں مصروف تھیں |
واضح رہے کہ استحکامِ پاکستان ریلی کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ جلسہ ملکی تاریخ کا پہلا جلسہ ہے جو پارلیمان کے سامنے منعقد ہوا اور جس کے لیے پارلیمان جانے والے تمام راستوں ایک دن پہلے ہی بند کردیا گیا تھا۔
جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس داخل ہونے کے بعد جنرل پرویز مشرف کا یہ چھٹا عوامی جلسہ تھا جس میں ان کی حفاظت کے لیے سٹیج پر آہنی روسٹرم بنایا گیا تھا اور اس پر بلٹ پروف شیشہ لگایاگیا تھا جبکہ سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
جلسہ گاہ میں داخلہ کے لیے سکینرز لگائے گئے تھے۔ انٹیلیجنس اور سپیشل برانچ کے بیسیوں اہلکاروں کے ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے سیکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ رینجرز کے دستے بھی گشت کررہے تھے۔