http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 11 May, 2007, 17:35 GMT 22:35 PST

امداد علی سومرو
لاہور

چودھری شجاعت کے خلاف مظاہرہ

لاہور میں جمعہ کو خواتین نے چودھری شجاعت حسین کی جانب سے جامعہ حفصہ کی انتظامیہ سے جاری مذاکرات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

خواتین نے جب حکمران جماعت کے سربراہ کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے بیس سے زائد خواتین کو گرفتار کر لیا جن میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین نگہت سعید، انیس ہارون اور دیگر شامل تھیں تاہم انہیں کچھ دیر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

خواتین محاذِ عمل نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی انتظامیہ سے مذاکرات کے خلاف ان کی چودھری ظہور الہیٰ روڈ گلبرگ والی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

اس سے قبل خواتین محاذِ عمل اور سول سوسائٹی کی دیگر تنظیموں نے جامعہ حفصہ ، لال مسجد اور طالبانائزیشن کے خلاف انیس اپریل کو ملک گیر مظاہرے کیے تھے۔
خواتین نے جب چودھری شجاعت کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا

احتجاج سے قبل ظہور الہیٰ روڈ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا اور چاروں اطراف خواتین اہلکاروں سمیت پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

مظاہرہ میں شامل خواتین نے انتہا پسندی کے خلاف نعرے بازی کی۔ بعد میں جب انہوں نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ کر آگے جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ خواتین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کافی دیر تک ہاتھا پائی بھی ہوتی رہی جس کے بعد پولیس نے بیس سے زائد خواتین کو گرفتار کر کے ماڈل ٹائوں تھانے میں بند کر دیا۔

مظاہرے میں شامل خواتین ’برقعہ پوشوں کی سرکار نہیں چلی گی، ڈنڈہ برداروں کی سرکار نہیں چلی گی‘ ،’فوجی ملا اتحاد نا منظور‘ اور ’ساری غنڈہ گردی ہے، ملا کے پیچھے وردی ہے‘ کے نعرے لگا رہی تھیں۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے۔

گرفتاری سے قبل نگہت سعید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے صرف بچوں کی لائبریری پر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ وہ لوگ اسلام آباد میں بھی جگہ جگہ قابض ہو رہے ہیں۔ جب سے یہ معاملہ اٹھا ہے حکومت نے ان کے خلاف کچھ نہیں کیا اور نہ کوئی کارروائی ہوئی ہے۔ چودھری شجاعت حسین ان لوگوں سے سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ اس لیے وہ یہاں ان کے گھر کے سامنے احتجاج کرنے آئی ہیں۔
’چودھری شجاعت حسین انتہا پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں‘

ان کے بقول چودھری شجاعت حسین انتہا پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد والے اُس شریعت کی بات نہیں کر رہے جو پاکستان کے آئین میں ہے بلکہ وہ اس شریعت کی بات کر رہے ہیں جس کے تحت وہ کبھی سی ڈیز اور وڈیوز کے دکانوں پر حملے کرتے ہیں تو کبھی ڈی وی ڈی جلا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ان لوگوں نے انتہا کر دی ہے جو عورتیں گاڑیاں چلا رہی ہیں ان کو روک کر دھمکاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف صدر پرویز مشرف روشن خیالی کی باتیں کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہتے ہیں عام شہری انتہا پسندی کو ختم کریں تو عام شہری کیسے ختم کریں گے جب کہ مشرف خود ان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔