Friday, 11 May, 2007, 04:48 GMT 09:48 PST
عارف وقار
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ تمام تخلیقی فنون کے سوتے ایک ہی مرکز سے پھوٹتے ہیں تو پھر شاعر اور مصّور میں صرف قلم اور مُوقلم کا فرق رہ جاتا ہے۔
لاہور کی نیرنگ آرٹ گیلری میں جاری ثمینہ علی اختر کی تصویری نمائش رنگ و آھنگ کا ایک ایسا آمیزہ ہے جسے دیکھ کر تمام فنون کے مشترکہ منبعے کا نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنّا جسے کہہ نہ سکیں رُو بہ رو
مصوّرہ ثمینہ علی نے حرفِ تمنّا کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے تصویر کاری کی دنیا تک پھیلا دیا ہے اور اظہار کےلیے آرٹ کی وہ صورت چُنی ہے جس میں کسی سطح پر مختلف طرح کے اجزاء چپکا دیئے جاتے ہیں مثلاً کاغذ کے ٹکڑے، رنگین پنّیاں، درخت کی چھال، دھات کے ٹکڑے، بوتلوں کے ڈھکن یا ریت کے ذرّے وغیرہ۔ مختلف النوع اجزاء کے آمیزے کا یہ فن کولاژ کہلاتا ہے۔
![]() | |
| مصوری اور شاعری کے سوتے ایک ہی مرکز سے پھوٹتے ہیں: ثمینہ علی |
اور کولاژ کی تکنیک اپنا کر مصّورہ نے اپنے اظہار کےلیے صحیح معنوں میں ایک فراّخ اور ہمہ گیر وسیلے کو اپنا لیا۔ اُنھوں نے برش اور پینٹ کے کمالات کو کینوس کی بجائے ہاتھ سے بنے ہوئے کاغذ پر بکھیرا ہے۔
کاغذ کے انتخاب کو وہ بنیادی اہمیت دیتی ہیں اور کاغذ پر جب پینٹ اور برش کا کام ختم ہوجاتا ہے تو ثمینہ اس پر مِنی ایچر مصوری کرتی ہیں اور اسکے گِردو پیش کو رنگین پنّیوں اور دوسرے میٹریل سے سجاتی ہیں۔
بعض اوقات یہ ترتیب بدل بھی جاتی ہے اور ابتداء ایک مِنی ایچر سے ہوتی ہے۔ اسکے ارد گرد بعد میں پینٹ اور برش کا کام شروع ہوجاتا ہے اور آخر میں کاغذ کے رنگین ٹکڑے یا چمکدار پنّے سے کولاژ کی حتمی صورت پیدا کی جاتی ہے۔
![]() | |
| قدیم منی ایچر اور جدید پینٹنگ: کولاژ کا ایک اور نمونہ |
فیض کی شاعری سے مصوّرہ کو فطری اُنس ہے، اسی لیے انھوں نے اپنے کولاژ شہ پاروں کے لیے اشعارِ فیض کو بنیاد بنایا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اشعار کا مضمون جب خطاطی کی شکل اختیار کر کے کاغذ پہ منتقل ہوتا ہے تو وہ بذاتِ خود بصری آرٹ کا نمونہ بن جاتا ہے اور یوں کاغذ پر لائن، ٹیکسچر، رنگ اور تناظر کے ساتھ ساتھ خطاطی کی ایک اضافی جہت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ تمام اجزاء مِل کر جس کُل کو متشکل کرتے ہیں وہی ثمینہ علی کے آرٹ کی اساس ہے۔