http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 10 May, 2007, 08:53 GMT 13:53 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

کراچی کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ

کراچی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ کے خلاف جمعرات کو ہائی کورٹ، ضلعی اور ملیر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

بدھ کی شب شہر کے پوش علاقے ڈفینس میں منیر ملک کے گھر پر فائرنگ کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے لیے جدید اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار ایسو سی ایشن کی جنرل باڈی کے اجلاسوں میں اس حملے کی مذمت کی گئی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ
سیل دفتر کی سیل توڑ دینے کا حکم
مشرف کو طلب کیا جا سکتا ہے
سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ابرار الحسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ داخلہ کے سیکریٹری کا خط انہیں بھی موصول ہوا ہے جس میں بارہ مئی کو جسٹس افتخار چودھری کے کراچی دورے کے دن تصادم کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور انہوں نے اس بارے میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو آگاہ کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس کے استقبال کی تیاریاں جاری ہیں اور تاحال پروگرام ملتوی نہیں کیا گیا ہے۔

کراچی بار ایسو سی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ’اگر بارہ مئی کو کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمے داری داخلہ سیکریٹری پر ہوگی کیونکہ جب وہ یہ جانتے ہیں کہ تصادم ہوسکتا ہے تو پھر وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ یہ کون کریگا‘۔

جسٹس رشید رضوی کا کہنا تھا کہ ’پہلے وکلاء کے رہنما کے دفتر کو سیل کیا گیا پھر فائرنگ کی گئی مگر وکلاء چیف جسٹس کا ہر صورت میں استقبال کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کچھ واقعات کا خدشہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چیف جسٹس کو اسلام آباد سے کراچی کے لیے روانا نہیں ہونے دیا جائے۔