Thursday, 10 May, 2007, 18:49 GMT 23:49 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی 12 مئی کو کراچی آمد کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے لگائے گئے استقبالیہ کیمپ پولیس نے اکھاڑ دیئے ہیں۔
یہ کیمپ جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی اور لیبر پارٹی کی جانب سے لگائے گئے تھے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر معراج الہدیٰ صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے شہر میں ستر استقبالیہ کیمپ لگائے تھے، جن میں سے تیس کیمپ پولیس نے گرا دیئے ہیں اور پولیس نے وہاں پر موجود کارکنوں کی مارپیٹ بھی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ چیف جسٹس کا بھرپور استقبال نہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے استقبال کی تیاریوں کے لیے کسی قسم کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
عملی طور پر معطل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار کی کراچی آمد سے دو روز قبل ہی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
وکلاء تنظیمیوں نے سندھ حکومت کی اس تجویز کو رد کر دیا ہے کہ تخریب کاری اور تصادم کے خدشہ کے پیش نظر جسٹس افتخار اپنا کراچی کا دورہ ملتوی کر دیں۔
پاکستان بار کونسل کے رکن ابو انعام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جسٹس افتخار کی کراچی آمد کا پروگرام نہ منسوخ اور نہ ہی ملتوی ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشیر داخلہ وکلاء کو ریلی منسوخ کرنے کی بجائے اپنی جماعت کو کیوں نہیں کہتے کہ وہ اپنی ریلی ملتوی کر دے۔ ’وکلاء ریلی کا اعلان بہت پہلے کیا گیا تھا‘۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بارہ مئی کو ایم اے جناح روڈ پر ریلی نکالی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے مخالف نہیں ہیں لیکن اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے چیف جسٹس کے استقبال کے نام پر یہ اعلانات کیے جارہے ہیں کہ اس موقع پر تاریخی جلوس نکال کر وہ یہ ثابت کرینگی کہ کراچی اور سندھ کے عوام متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ نہیں ہیں۔
انہوں نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ بارہ مئی کو کہیں بھی کسی مخالف سیاسی جماعت کے کارکن سے نہ الجھیں ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ریلی کے اعلان کا مقصد امن و امان کی صورتحال پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی پی پی پی کی ریلیاں پرامن رہی ہیں اور بارہ مئی کی ریلی بھی پرامن ہی ہوگی۔
وکلاء تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ پروگرام کے تحت جسٹس افتخار قائدِ اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ایم اے جناح روڈ سے ہوتے ہوئے کراچی بار پہنچیں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے جانب سے اسی روڈ پر ریلی نکالنے کے اعلان کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر مجید عزیز اور سراج قاسم تیلی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بارہ مئی کو امن و امان کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ اقتصادی سرگرمیوں میں رخنہ پڑنے سے نہ صرف لوگوں کا بلکہ اس ملک کا اقصادی نقصان بھی ہوگا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں اور بار ایسو سی ایشنز سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس دن امن و امان کو یقینی بنائیں ۔