Tuesday, 08 May, 2007, 18:10 GMT 23:10 PST
آصف فاروقی
اسلام آباد
مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک قومی مجلس مشاورت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہےجس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال کیے جانے پر حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک پر غور کیا جائے گا۔
منگل کی شام ایک پریس کانفرنس میں متحدہ مجلس عمل کی مرکزی سپریم کونسل کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ایم ایم اے کے ترجمان لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس اجلاس کی تاریخ اور مقام کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں، وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی کے ارکان، لا پتہ افراد کے ورثاء اور عام شہریوں کو مدعو کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم آل پارٹیز کانفرنس کا نعم البدل نہیں بلکہ اس کا ایک تسلسل ہی ہو گا۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ اس دوران ایم ایم اے اپنے طور پر آئین کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور فوجی آمریت کے خلاف ملک بھر میں جلسے اور کارواں منعقد کرے گی۔
مئی کی چوبیس تاریخ کو شروع ہونے والی اس تحریک کے دوران کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی اور ملتان میں جلسے کیے جائیں گے۔
ایم ایم اے کے ترجمان کے مطابق تنظیم کی صوبائی اور تحصیل کی سطح کی قیادت کو ان جلسوں کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
مرکزی کونسل کے دیگر فیصلوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں ایم ایم اے میں شامل جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں اسی پلیٹ فارم سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبہ سرحد بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لئے حکمت عملی کی تشکیل کی غرض سے ایم ایم اے کے مرکزی راہنما انیس مئی کو اس علاقے کا دورہ کریں گے۔