Tuesday, 08 May, 2007, 14:30 GMT 19:30 PST
عامراحمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے غیر فعال چيف جسٹس افتخار چودھری کی لاہور یاترا کو اگر بہت بڑھا چڑھا کر نہ بھی بیان کیا جائے تو بھی شاید ہی کوئی ایسا سیاسی مبصر ہوگا جو اس کی سیاسی اہمیت سے انکار کرسکے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ ملک کی عدلیہ اور انتظامیہ میں ٹھن گئی ہو۔ نواز شریف دور میں سپریم کورٹ پر ہونے والا حملہ آج بھی پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔
لیکن ایسا شاید ہی کبھی ہوا کہ ایک عدالتی افسر خواہ وہ چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو کسی فوجی حکمران کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کا بانی ہو گيا ہو۔
مشرف حکومت کے حمایتی کہتے ہیں کہ یہ سارا معاملہ صدر مخالف سیاسی جماعتوں نے بگاڑا ہے اور انہوں نے بار بار حزب اختلاف سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ ایک قانونی جنگ کو سیاسی رنگ نہ دیں۔
دوسری جانب حزب مخالف کا کہنا کہ چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی حمایت دراصل صدر مشرف کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غم و غصہ کا وہ لاوا ہے جسے موجودہ عدالتی بحران نے ایک باقاعدہ دھارے کی شکل دے دی ہے۔
![]() | |
| صدر کے حمایتی کہتے ہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ ملکی مفاد میں نہيں ہے |
اس کشمکش میں ہمارا محاوراتی شخصِ عام مخمصے کا شکار ہے کہ کس کی بات مانے اور کس کی نہ مانے۔ اور کیونکہ شخصِ عام کا ہاتھ قانونی پیچيدگیوں سے قطع نظر سیاست کی نبض پر ہوتاہے تو کیوں نہ ہم اس سارے معاملے پر ایک خالصتاً سیاسی نظر ڈالیں۔ شاید یوں ہی یہ معاملہ سلجھانے میں مدد ملے۔
سب سے پہلے تو اس مقدمے کے دو منطقی نتائج پر نظر ڈالتے ہیں۔ یا تو جسٹس چودھری یہ مقدمہ ہار جائیں گے یا وہ جیت جائیں گے۔
ہارنے کی صورت میں یہ حقیقت امر ہو جائے گی کہ پاکستان میں عدلیہ ، انتظامیہ سے ٹکر نہيں لے سکتی اور آئندہ آنے والا کوئی بھی چیف جسٹس اس طرح کی جرآت شاید نہ کر سکے۔
یقینا یہ صورتحال کسی کو بھی قابل قبول نہ ہوگی۔
دوسری صورت یہ ہوسکتی ہیں کہ سپریم کورٹ جسٹس چودھری کے خلاف قائم کردہ جوڈیشیل کونسل توڑ دے اور ان کو مکمل اختیارات کے ساتھ بحال کردے۔ اس صورت میں جسٹس چودھری پاکستانی تاریخ کے طاقتور ترین چیف جسٹس بن کر ابھریں گے۔
وہ ملک کی تاریخ کے واحد عدالتی افسر ہونگے جن کو ملک بھر سے سیاسی حمایت بھی حاصل ہو گی اور ان کے پاس چھ سال کا ایک لمبا عرصہ ہوگا جس میں غالباً وہ جو چاہیں کر سکیں۔ان کی بحالی سے ایک نئے سیاسی عمل کا آغاز ہوگا جو رفتہ رفتہ آمر حکمرانوں کی جڑوں کو گھن کی طرح چاٹنے لگے گا۔
بظاہر تو لگتا ہے کہ اس صورتحال کا وہ سیاسی جماعتیں خیرم قدم کریں گی جو اس وقت چیف جسٹس کی قانونی جنگ میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ لیکن اگر آپ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسا سوچنے والے عقل اور سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری نظر آئیں گے۔
![]() | |
| ستم ظریفی یہ ہے کہ جسٹس چودھری کے سیاسی حمایتی تو صدر مشرف کے ساتھ ڈیل کی کشتی میں سوار کسی نہ کسی کنارے لگ ہی جائیں گے |
شاید اس وقت ایسا کہنا غیر مقبول ہولیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جسٹس چودھری ایک ایسی ہڈی بنتے جارہے ہیں جو صرف صدر مشرف کے ہی نہيں بلکہ ہر سیاسی جماعت کے گلے میں پھنس سکتی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ جسٹس چودھری جب اپنے سیاسی قافلے سمیت اس سمندر ميں اتریں گے تو ان کے سیاسی حمایتی تو صدر مشرف کے ساتھ ڈیل کی کشتی میں سوار کسی نہ کسی کنارے لگ ہی جائیں گے۔ لیکن جسٹس چودھری کو بے یار و مددگار غوطے کھاتا دیکھ کر ان کے ہم عصر اور وارث آئندہ کبھی کسی فوجی حکمران کے خلاف سیاسی حمایت کے بل بوتے پر کسی قسم کا اصولی موقف اپنانے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لیں گے۔