http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 07 May, 2007, 18:09 GMT 23:09 PST

رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کو سپریم کورٹ کے فل بینچ کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا ہے لیکن فل کورٹ کتنے ججوں پر مشتمل ہو گا ابھی واضح نہیں ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین کےمطابق موجودہ صورتحال میں سپریم کورٹ کا فل بینچ بارہ ججوں پر مشتمل ہو گا۔سید شریف الدین پیرزادہ سپریم کورٹ کے دو ایڈہاک ججوں کو فل کورٹ بینچ میں شامل کرنے کے حق میں نظر نہیں آتے لیکن جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کے مطابق ایڈہاک جج بھی سپریم کورٹ کا جج ہوتا ہےاور ان کو فل کورٹ بینچ سے باہر رکھنا ممکن نہیں گا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے وہ جج جو سپریم جوڈیشل کونسل کےممبر ہیں یا پہلے رہے ہیں ، ان کے علاوہ تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔

سپریم کورٹ میں ججوں کی سینارٹی لسٹ کے مطابق جسٹس خلیل الرحمن رمدے، فل کورٹ بینچ کی سربراہی کریں گے۔ فل کورٹ کے باقی ممبران میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس فلک شیر، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس تصدیق حسین جیلانی، سید اشہد سعید، جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس چودھری اعجاز احمد، جسٹس سید جمشیدعلی، جسٹس حامد علی مرزا، اور جسٹس غلام ربانی شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے جج سید جمشید علی شدید علیل ہیں اور بینچ میں شامل ہونے کے قابل نہیں ہوں گے ۔

سوموار کو جسٹس افتخار احمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کے بعض ججوں کی جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ سینارٹی کے مسائل تھے اور فل کورٹ بینچ کی صورت میں بعض ججوں پر اعتراض کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔