http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 07 May, 2007, 17:10 GMT 22:10 PST

بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایمرجنسی کا ذکر سرسری تھا: افگن

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے کہا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے ملک میں ایمرجنسی کا ممکنہ نفاذ کا ذکر سرسری طور پر کیا تھا۔

یہ بات انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے رکن سید نوید قمر کے نکتۂ اعتراض کے جواب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ سے متعلق شق آئین میں موجود ہے اور وزیراعظم نے اتوار کو اپنی اخباری کانفرنس میں اسی امر کی طرف اشارہ کیا تھا۔

ایمر جنسی کا نفاذ ممکن ہے: شوکت

اس سے پہلے سید نوید قمر نے کہا تھا کہ جس دن پی پی پی کے اہم رہنما سید قمر عباس کو پشاور میں قتل کیا گیا، اسی روز وزیراعظم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت ہر کسی کو اپنی نہیں ملک کی سلامتی کی فکر ہونی چاہیے۔

ایم ایم اے کے رہنما فرید پراچہ نے کہا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے ایمرجنسی کے نفاذ کا ذکر اک دھمکی کے طور پر کیا ہے۔

بحث کا موقع دیا جائے گا
 شیر افگن نے کہا کہ اگر ملک میں حالات ایسے ہوئے کہ ایمرجنسی کا نفاذ لازم ہو تو اس صورت میں ارکان اسمبلی کو اس پر بحث کا موقع دیا جائے گا
 

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے کہا کہ اگر ملک میں حالات ایسے ہوئے کہ ایمرجنسی کا نفاذ لازم ہو تو اس صورت میں ارکان اسمبلی کو اس پر بحث کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی واقعہ ہوا ہی نہ ہو تو اس کے بارے میں ایف آئی آر درج نہیں کرائی جا سکتی۔

پیر کے روز سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دورہِ لاہور کے دوران مقامی ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل کرنے کے اقدام کے خلاف تحریک التواء سماعت کے لیے منظور کر لی۔