Saturday, 05 May, 2007, 06:21 GMT 11:21 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
عملی طور معطل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کا قافلہ گجرات میں کچھ دیر قیام کے بعد اب دوبارہ لاہور کی طرف رواں دواں ہے۔
گجرات ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار نے کہا کہ وکلاء کو اب قانون کی حکمرانی کا بیڑا اٹھا لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار نے انہیں دوبارہ بلایا تو وہ خصوصی طور پر گجرات آئیں گے۔
جسٹس افتخار لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت جا رہے ہیں، جہاں وہ وکلاء کے ایک اجتماع سے رات دیر گئے خطاب کرینگے۔
جسٹس افتخار لاہور کے لیے سنیچر کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے سینکڑوں وکلاء کے ہمراہ گاڑیوں کے ایک قافلے میں روانہ ہوئے تھے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے رفاقت علی بھی اس قافلے کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔
رفاقت علی کے مطابق وکلاء اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکن جگہ جگہ پر جسٹس افتخار اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے وکلاء اور دوسرے افراد کا بھرپور استقبال کر رہے ہیں۔
جہلم میں جسٹس افتخار کا قافلہ پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے ان کے استقبال کے لیے اکٹھے ہونے والے سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔
گوجرانوالہ کے نواح میں جسٹس افتخار کے استقبال کے لیے اکٹھے ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر مبینہ طور پر پولیس نے فائرنگ کی ہے، جس کے نتیجے میں تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں |
اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد جسٹس افتخار کا قافلہ وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر روالپنڈی میں سواں پُل کے قریب پہنچا تو ادھر سے گزرنے والی گیس پائپ لائن میں آگ لگ گئی، جس پر قافلے کو کچھ دیر کے لیے رکنا پڑا۔ جسٹس افتخار کی گاڑی ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن چلا رہے ہیں۔
حکومت نے جسٹس افتخار کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سڑک کی بجائے ہوائی سفر کے ذریعے لاہور پہنچیں۔ لیکن انہوں نے سڑک کے راستے سفر کرنے کو ہی ترجیح دی ہے۔ جسٹس افتخار کا کہنا ہے کہ لاہور کے راستے میں جتنی بار ایسوسی ایشنز آتی ہیں ان سب نے انہیں خطاب کی دعوت دے رکھی ہے اور وہ اس کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جانا چاہتے ہیں۔
تاہم جسٹس افتخار نے پنجاب حکومت کی وہ پیشکش قبول کر لی ہے جس کے تحت دو ایسی گاڑیاں ان کے قافلے کے ساتھ ہونگی جن میں ریموٹ سگنل جام کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ نظام ریموٹ کنٹرول سے بم چلانے کے عمل کو نا کارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ادھر اطلاعات کے مطابق پنجاب بار کونسل نے سنیچر کے روز پورے صوبے میں عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ جسٹس افتخار لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر لاہور جا رہے ہیں۔
![]() | |
| لاہور میں وکلاء، جج، حزب مخالف کے رہنماؤں اور عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس کی منتظر ہے |
مقامی صحافیوں نے بتایا کہ پولیس نے جی ٹی روڈ کے کنارے قائم استقبالی کیمپ اکھاڑ دیا ہے اور کرسیاں وغیر اٹھا کر لے گئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے سابق رکن قومی اسمبلی راجہ محمد افضل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ہیں۔
جہلم میں ایک سو کے قریب وکلاء اور بیسیوں سیاسی کارکن اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اٹھائے کھڑے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل بھی وہاں پہنچے ہوئے ہیں۔ جہلم شہر میں جی ٹی روڈ کے کنارے تمام دوکانیں بند ہیں۔
جہلم میں آنسو گیس اور لاٹھیاں |
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ہیں، جو جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کر رہی ہے۔ جسٹس افتخار نے ان پر (لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس) متعصب ہونے کا الزام لگا چکے ہیں۔
نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور میں وکلاء، جج، حزب مخالف کے رہنماؤں اور عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس کی منتظر ہے۔
جی ٹی روڈ پر شاہدرہ سے لیکر لاہور شہر میں مال روڈ جگہ رنگین خیر مقدمی بینر لگے ہوئے ہیں۔ چند بینرز کی تحریر کچھ یوں ہے ’میرے وطن کا ہر وکیل افتخار ہے ۔ لاہور بار ایسوسی ایشن‘۔ ’تینوں رب دیاں رکھاں۔شہباز شریف‘
اور ’تم ہی نے درد دیا تم ہی دوا دو، جناب چیف جسٹس بحال ہوکر‘۔
لاہور کی مال روڈ کسی میلے کا سا منظر پیش کر رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے مختلف چوراہوں پر استقبالی کیمپ لگانے شروع کیے ہوئے ہیں۔
آمنے سامنے |
حکومتی جماعت کے جلوس کے شرکاء ٹولیوں کی شکل میں میکلوڈ روڈ پر ٹی اینڈ ٹی چوک پر پہنچ رہے ہیں، جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب شرکاء سے خطاب کریں گے۔ یہ جگہ اس جگہ سے بمشکل ایک فرلانگ ہے جہاں جسٹس افتخار نے خطاب کرنا ہے۔
پولیس نے تصادم کے خطرے کے پیش نظر درمیانی علاقے کو ’بفر زون‘ قرار دیدیا ہے ۔ بفر زون میں خار دار تاریں بچھائی جا رہی ہیں اور خالی بسیں اور ٹرالیاں کھڑی کی جا رہی ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے۔
پولیس نے تین روز سے شہر بھر میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرفتار کارکنوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔