Saturday, 05 May, 2007, 17:00 GMT 22:00 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں اطلاعات کے مطابق حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد مبینہ مقامی طالبان علاقے میں پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں اور سنیچر کو مسلح مقامی طالبان نے گاڑیوں کی تلاشی لینے کے دوران درجنوں کیسٹیں اور موبائل سیٹ قبضہ میں لے کر توڑ ڈالے۔
ایک عینی شاہد لطیف خان نے بتایا کہ ’ہم گاڑی میں عنایت کلی کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں تقریبا پچاس سے زیادہ نقاب پوش افراد نے ہمیں روکا اور ان میں سے ایک شخص نے گاڑی کے آگے کا دروازہ کھول کر ٹیپ ریکارڈر سے کیسٹ نکال لی اور اسے توڑڈالا۔ ان کے ساتھ راکٹ لانچر، دستی بم اور کلاشنکوفیں تھیں‘۔
ایک اور عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’مسلح افراد نے گاڑی روکنے کے بعداس میں سوار مسافروں پر نظردوڑائی اور جن لوگوں کی داڑھیاں نہیں تھیں انہیں متنبہہ کیا کہ وہ داڑھی رکھ لیں۔ میری داڑھی چھوٹی تھے سو انہوں نے مجھےداڑھی بڑھانے کو کہا‘۔
عینی شاہدوں کے مطابق مسلح نقاب پوشوں نے اس دوران کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا البتہ لوگوں کو موسیقی نہ سننے اور داڑھیاں رکھنے کے لیے کہتے رہے۔
مقامی قبیلے سالارزئی کا جرگہ |
واضح رہے کہ جنوری دوہزار چھ میں باجوڑ کے گاؤں ڈمہ ڈولہ پر مبینہ امریکی حملے اور اکتوبر دو ہزار چھ میں چینگئی کے ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کے فضائی حملے کے بعد باجوڑ میں مبینہ طور پر مقامی طالبان کی کارروائیاں بڑھ گئی تھیں تاہم رواں سال مارچ میں حکومت اور مقامی قبیلے سالارزئی کے درمیان امن معاہدہ ہوا جس میں قبائلیوں نے حکومت کو ضمانت دی تھی کہ غیر ملکیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور مقامی طالبان اپنی کارروائیاں روک دیں گے۔اس معاہدے کے بعد گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران تشدد کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔